.

ٹرمپ کے مشیر کا مقبوضہ القدس میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دورۂ اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر خاص مقبوضہ مشرقی القدس میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سوموار کو اسرائیل پہنچنے والے تھے۔

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مسلمانوں کے پہلے قبلہ اول مسجد الاقصیٰ میں اسرائیل کے سکیورٹی اقدامات کے ردعمل میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور فلسطینی اسرائیلی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

ایک امریکی عہدہ دار نے بتایا ہے کہ ’’ صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندہ برائے بین الاقوامی مذاکرات جیسن گرین بلاٹ خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے کوششوں کی حمایت کی غرض سے گذشتہ رات اسرائیل روانہ ہوگئے تھے‘‘۔تاہم ان کے دورے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ کے داخلی دروازوں پر دھات کی نشان دہی کرنے والے آلات نصب کر دیے ہیں۔ اس نے چودہ جولائی کو ایک حملے میں دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد یہ اقدام کیا ہے۔ فلسطینی اس کو مسجد الاقصیٰ پراسرائیل کا کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے ایک حربہ قرار دے رہے ہیں۔انھوں نے احتجاج کے طور پر مسجد الاقصیٰ میں ان میٹل ڈیٹیکٹروں سے گذر کر داخل ہونے سے انکار کردیا ہے اور وہ مسجد کے باہر شاہراہوں پر نمازیں ادا کررہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ چودہ جولائی کو پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے والے فلسطینی بندوقوں کو اسمگل کر کے مسجد میں لے گئے تھے اور پھر وہاں سے انھوں نے فائرنگ کی تھی۔

اسرائیلی کے سکیورٹی اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران صہیونی فورسز سے جھڑپوں میں پانچ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔گذشتہ جمعے کو فلسطینیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ایک یہودی بستی میں تین اسرائیلیوں کو چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا تھا۔