.

اردن کے فوجی کے ہاتھوں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی وڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی مسلح افواج نے گزشتہ برس الجفر کے علاقے میں ایک عسکری اڈے پر اردنی فوجی کے ہاتھوں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کی سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج جاری کر دی ہے۔ یہ واقعہ 4 نومبر 2016 کو پرنس فیصل ملٹری بیس پر پیش آیا تھا۔

اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے عدالتی کارروائی کے اختتام پر اردنی فوجی کے خلاف با مشقت عمر قید کا فیصلہ سنایا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں احتجاج سامنے آیا جس نے اردن کی فوج کو وڈیو جاری کرنے پر مجبور کر دیا تا کہ عدالت کی منصفانہ کارروائی کو باور کرایا جا سکے۔

اردن کی خبر رساں ایجنسی (پیٹرا) کے مطابق اردن کی فوج کی جنرل کمان کے ایک ذمے دار ذریعے نے اپنے بیان میں بتایا کہ "فرسٹ سارجنٹ سامی سالم التوایہہ نے عسکری احکامات اور ہدایات کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا۔ فائرنگ کرتے ہوئے وہ اپنے دفاع کی حالت میں نہیں تھا۔ اسے امریکی فوجیوں کے خلاف طاقت کے استعمال یا گولی چلانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ امریکی فوجیوں نے فوجی اڈے میں داخلے کے لیے مطلوبہ ہدایات پر عمل کیا تھا اس کے باوجود اردنی فوجی نے ان کی طرف گولیاں چلانے میں پہل کی۔ سامی کو علم تھا کہ امریکی فوجی کس مقصد سے فوجی اڈے سے باہر گئے اور ان کو کب واپس آنا تھا"۔

ذریعے نے مزید بتایا کہ عدالت نے اردن کے قانون کے مطابق سارجنٹ سامی کے خلاف فیصلہ جاری کیا ہے اور سامی نے ذاتی طور پر امریکی فوجیوں کے خلاف قتل کے جرم کا اعتراف کیا۔

اردن کی فوج کی جانب سے جاری واقعے کی فوٹیج کا دورانیہ 6 منٹ سے زیادہ ہے۔