.

داعشیوں کے ہاتھوں 180 مرتبہ زیادتی کا نشانہ بننے والی یزیدی لڑکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی میڈیا میں ایک یزیدی لڑکی کی کہانی زیر گردش ہے جس نے انکشاف کیا کہ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے کے بعد اُس کو 180 سے زیادہ مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 14 سالہ لڑکی نے جس کا نام اخلاص ہے بتایا کہ وہ چھ ماہ تک داعش کی قید میں رہی جس کے دوران شدت پسند تنظیم کے جنگجو اسے روزانہ زیادتی کا نشانہ بناتے تھے۔

اخلاص نے عراق کے شمال میں سنجار کے پہاڑوں پر چڑھ کر داعش کے چنگل سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی مگر تنظیم کے ارکان نے اس کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد چھ ماہ تک وہ "باندی" کی حیثیت سے داعش کی قید میں رہی جہاں اس کے خون خوار جنگجو روزانہ کم از کم ایک مرتبہ اخلاص کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ ضرور بناتے۔

داعش تنظیم نے 2014 میں عراق میں کُرد نژاد یزیدیوں کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ کیا کیوں کہ تنظیم کے سربراہ کی جانب سے ان پر "شیطان کی عبادت" کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اخلاص نے برطانوی میڈیا کے ایک ادارے کو بتایا کہ داعش کی قید میں رہتے ہوئے اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ خودکشی کی بھی کوشش کی۔ اخلاص کے مطابق وہ داعش کے ہاتھوں اغوا ہونے والی 150 یزیدی لڑکیوں میں سے تھی جن کو جنسی ضرورت پوری کرنے کے واسطے "باندیاں" بنایا گیا تھا.. ان لڑکیوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

اخلاص نے بتایا کہ داعش کی قید میں چھ ماہ رہنے کے بعد ایک روز وہ موقع پا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔ اسے پہلے پناہ گزینوں کے کیمپ میں رکھا گیا اور پھر جرمنی منتقل کر دیا گیا جہاں وہ ابھی تک ایک ہسپتال میں علاج اور تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ اخلاص کا کہنا ہے کہ وہ وکیل بننا چاہتی ہے۔