.

فلسطینیوں کا مسجد الاقصیٰ میں اسرائیل کے تمام سکیورٹی اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں اسرائیل کے تمام سکیورٹی اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ کے داخلی دروازوں پر نصب کی گئی بعض سکیورٹی رکاوٹیں ہٹا دی ہیں لیکن ریاض منصور نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر بحث کے دوران کہا ہے کہ ’’فوری طور پر کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے‘‘۔

انھوں نے مسجد الاقصیٰ کی سابقہ تاریخی حیثیت بحال کرنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لانے پر زوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مسجد الاقصیٰ کی تاریخی حیثیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیل نے منگل کے روز مسجد الاقصیٰ کے داخلی دروازوں پر حال ہی میں نصب کیے گئے میٹل ڈیٹیکٹرز اور سکیورٹی کیمرے ہٹا دیے ہیں اور کہا ہے کہ اب جدید ترین ٹیکنالوجی اور دوسرے ذرائع سے سکیورٹی معائنہ کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ایلچی ملادینوف نے اسرائیل کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نئی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے منگل کی رات ایک اجلاس منعقد کرنے والے تھے۔

ملادینوف نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ سلامتی کونسل کوآیندہ جمعہ سے قبل تشدد سے بچنے کے لیے بحران کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقوں کو اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرتے ہوئے ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور آیندہ چند روز میں اس بحران کا ایک جامع حل نکالنا چاہیے۔

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں مسلمانوں کے پہلے قبلہ اول مسجد الاقصیٰ میں اسرائیل کے سکیورٹی اقدامات کے ردعمل میں گذشتہ کئی روز سے سخت کشیدگی پائی جارہی ہے اور فلسطینی اسرائیلی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے چودہ جولائی کو ایک حملے میں دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مسجد الاقصیٰ کے داخلی دروازوں پر دھات کی نشان دہی کرنے والے آلات نصب کر دیے تھے۔ فلسطینیوں نے اس اقدام کو مسجد الاقصیٰ پراسرائیل کا کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے ایک حربہ قرار د یا تھا۔انھوں نے احتجاج کے طور پر مسجد الاقصیٰ میں ان میٹل ڈیٹیکٹروں سے گذر کر داخل ہونے سے انکار کردیا تھا اور وہ آج تک مسجد کے باہر شاہراہوں پر پنجہ وقتہ نمازیں ادا کرتے رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ چودہ جولائی کو پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے والے فلسطینی بندوقوں کو اسمگل کر کے مسجد میں لے گئے تھے اور پھر وہاں سے انھوں نے ان پر فائرنگ کی تھی۔

اسرائیلی کے سکیورٹی اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران صہیونی فورسز سے جھڑپوں میں پانچ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ گذشتہ جمعے کو فلسطینیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ایک یہودی بستی میں تین اسرائیلیوں کو چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا تھا۔