.

یمن : خلیجی ممالک کو مطلوب دہشت گرد برعود اور الیزیدی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سکیورٹی حکام نے ملک کے مشرقی صوبے حضرموت میں دو افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر القاعدہ تنظیم کے ساتھ تعاون کا الزام ہے۔ مقامی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں افراد احمد علی احمد برعود اور عبداللہ محمد علی الیزیدی کے نام قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک (سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر) کی جانب سے پیش کی جانے والی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ یاد رہے کہ اعلان کردہ فہرست میں یمن سے تعلق رکھنے والے تین افراد اور تین اداروں کے نام موجود ہیں۔

الیزیدی

مئی 2016 میں یمنی مقامی سکیورٹی فورسز نے یمن میں القاعدہ تنظیم کے لیے سپورٹ کے الزام میں عبدالله محمد اليزيدی (پیدائش : 1957) کو گرفتار کر لیا تھا۔ یمن میں القاعدہ تنظیم کے زیر انتظام ایک روزنامے نے الیزیدی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

الیزیدی یمن میں الاحسان چیریٹی سوسائٹی کے سربراہ کے منصب پر کام کر رہا ہے ۔ اس ادارے کا نام دہشت گرد عناصر اور اداروں کی فہرست میں شامل ہے۔ 2016 میں الیزیدی نے قطر کے زیر انتظام فلاحی اداروں کے زیر سرپرستی حضرموت صوبے میں کئی منصوبوں کا آغاز کیا۔

عبداللہ الیزیدی 2015 میں یمن میں القاعدہ تنظیم کے زیر انتظام حضرموت کی قومی کونسل کا رکن تھا ، اُس وقت یمن کا شہر المکلا القاعدہ کے زیر کنٹرول تھا۔

جون 2017 میں امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ حضرموت کی قومی کونسل القاعدہ تنظیم کی جانب سے اپریل 2015 میں قائم کی گئی تا کہ یمن میں تنظیم کے زیر قبضہ علاقوں کا انتظام چلایا جا سکے۔ ان میں سکیورٹی اور اقتصادی امور کے علاوہ یمن میں شہریوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا شامل تھا۔ یہ پیش رفت اسی ماہ کے دوران المکلا شہر پر القاعدہ تنظیم کے قبضے کے بعد سامنے آئی۔

عبداللہ الیزیدی کو The Global Anti-Aggression Campaign کا بانی رکن شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی قیادت القاعدہ کی فنڈنگ کرنے والے قطری شہری عبدالرحمن بن عمير النعيمی کے ہاتھ میں ہے۔ النعیمی اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے جاری زیر پابندی شخصیات کی فہرستوں میں شامل ہے۔

برعود

جہاں تک احمد علی برعود کا تعلق ہے تو اسے بھی یمنی سکیورٹی فورسز نے یمن میں القاعدہ تنظیم کے لیے سپورٹ کے الزام میں گرفتار کیا۔ یمن میں القاعدہ تنظیم کے زیر انتظام ایک روزنامے نے برعود کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کی اپیل کی۔

1956 میں پیدا ہونے والا احمد برعود یمن میں القاعدہ تنظیم کی حمایت یافتہ الرحمہ چیریٹی فاؤنڈیشن کا ڈائریکٹر رہا۔ یہ اداراہ امریکا کی جانب سے جاری زیر پابندی اداروں کی فہرست میں شامل ہے۔

احمد برعود 2015 میں یمن میں القاعدہ تنظیم کے زیر انتظام حضرموت کی قومی کونسل کا رکن تھا ، اُس وقت یمن کا شہر المکلا القاعدہ کے زیر کنٹرول تھا۔

جون 2017 میں امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ حضرموت کی قومی کونسل القاعدہ تنظیم کی جانب سے اپریل 2015 میں قائم کی گئی تا کہ یمن میں تنظیم کے زیر قبضہ علاقوں کا انتظام چلایا جا سکے۔ ان میں سکیورٹی اور اقتصادی امور کے علاوہ یمن میں شہریوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا شامل تھا۔