.

شامی طیاروں کی باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی الغوطہ پر بمباری اور جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ میں رات بھر جھڑپیں جاری رہی ہیں اور شامی فوج کے لڑاکا طیاروں نے بھی جنگ بندی کے سمجھوتے کے باوجود اس علاقے پر بمباری کی ہے۔

بین الاقوامی ثالثی کے نتیجے میں مشرقی الغوطہ سمیت شام کے بعض علاقوں میں ہفتے کے روز سے جنگ بندی جاری ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے مشرقی الغوطہ میں واقع علاقے عین طرمہ میں پہلی مرتبہ شامی فوج اور ایک باغی گروپ فیلق الرحمان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے۔

اس علاقے میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان بدھ کی صبح تک لڑائی جاری رہی تھی مگر اس کے بعد شامی لڑاکا طیاروں نے اس علاقے میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

فیلق الرحمان تنظیم القاعدہ سے ماضی میں وابستہ گروپ فتح الشام محاذ کی اتحادی ہے۔شام کے حکومت نواز اخبار الوطن نے سوموار کے روز یہ اطلاع دی تھی کہ یہ تنظیم جنگ بندی سمجھوتے میں شامل نہیں ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ سرکاری لڑاکا طیاروں نے مشرقی الغوطہ میں واقع عطایا پر بھی حملے کیے ہیں۔ان میں ایک لڑکی جاں بحق اور سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔دو روز قبل شامی طیاروں نے عربین کے قصبے پر فضائی حملے کیے تھے اور ان میں بچوں سمیت بارہ شہری مارے گئے تھے۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ’’ یہ فضائی حملے اور جھڑپیں جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزی ہیں‘‘۔اسد حکومت کے اتحادی ممالک روس اور ایران اور باغیوں کے حامی ترکی کے درمیان شام میں محفوظ زون کے قیام کے لیے مئی میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس میں مشرقی الغوطہ کا ایک علاقہ بھی شامل تھا جہاں جنگ بندی سے اتفاق کیا گیا تھا۔

روس کی وزارت دفاع نے آج بریفنگ کے دوران ایک نقشہ بھی دکھایا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ منگل کی رات اور بدھ کو جن علاقوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا، وہ جنگ بندی والے علاقے کے اندر واقع ہیں۔

روسی فوج کے ایک افسر نے منگل کے روز سیز فائر زون کے اندر واقع کسی علاقے پر فضائی حملے کی تردید کی تھی۔مشرقی الغوطہ جنگ بندی میں شامل مجوزہ چار علاقوں میں دوسرا علاقہ ہے۔اس کے علاوہ جنوبی صوبے درعا ، سویدہ اور القنیطرہ میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔