لیبیا میں "القاعدہ" کے نمایاں ترین کمانڈر کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لیبیا میں القاعدہ تنظیم کا تعلق گزشتہ صدی کی 90ء کی دہائی سے ہے۔ لیبیا کی جنجگو تنظیم "الجماعہ اللیبیہ" کے القاعدہ میں ضم ہو جانے کے اعلان کے بعد تنظیم کے اکثر جنگجو افغانستان سے واپس لیبیا لوٹ آئے۔ البتہ اس کے بعض رہ نماؤں نے افغانستان میں القاعدہ میں شامل رہ کر وہاں لڑائی میں شرکت جاری رکھی۔ ان رہ نماؤں میں اسامہ بن لادن کا معاون یحیی اللیبی بھی شامل تھا۔

فروری 2011 میں لیبیا میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد جماعہ اللیبیہ انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہو کر ایک مرتبہ پھر نمایاں ہو گئی۔ قذافی حکومت کے سقوط کے بعد اس تنظیم کے قائدین ریاست کے اہم منصبوں اور ذمے داریوں کو سنبھالنے کے واسطے فوری طور پر متحرک ہو گئے جن میں تنظیم کا امیر عبد الحكيم بلحاج شامل تھا۔ تاہم تنظیم اپنے ہتھیاروں سے دست بردار نہیں ہوئی جو بعد ازاں مختلف ناموں مثلا انصار الشریعہ ، شوری مجالس اور بنغازی دفاعی بریگیڈز کے ناموں سے استعمال میں آتا رہا۔

اگرچہ جون 2016 میں تشکیل پانے والی تنظیم "بنغازی دفاعی بریگیڈز" نے جماعہ اللیبیہ اور القاعدہ کے ساتھ اپنے تعلق کی تردید کی تاہم اس کے نمایاں ترین کمانڈروں اور جنگجوؤں کے نام اس تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس کا اصل نام الساعدی عبدالله ابراهيم بوخزيم ہے۔ وہ افغانسان میں القاعدہ تنظیم کی صفوں میں شامل ہو کر لڑائی میں شریک ہوا۔ وہ 2012 میں اجدابیا کی مجلس شوری تشکیل دینے کے بعد پھر سے منظر عام پر آیا مگر پھر سرکاری فوج کی ضربوں کے سبب فراہ ہو گیا۔ بعد ازاں النوفلی جون 2016 میں ایک ٹی وی بیان کے ذریعے نمودار ہوا جس میں اس نے بنغازی دفاعی بریگیڈز بنانے کا اعلان کیا۔ وہ اس نئے بریگیڈز کے اکثر معرکوں میں شریک رہا۔

عبدالمنعم سالم الحسناوی کا شمار تنظیم کے لیے معرکوں کی منصوبہ بندی کرنے اور مالی سپورٹ فراہم کرنے والے کمانڈروں میں ہوتا ہے۔ قذافی کے وقت حکام نے اس کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا۔ فروری 2011 کے انقلاب کے دوران الحسناوی آزاد ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ 2013 میں وہ شام چلا گیا جہاں اسے لیبیائی شدت پسند عناصر پر مشتمل المہاجرین بریگیڈز کا مُفتی مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں یہ بریگیڈز الجبہۃ فرنٹ تنظیم میں شامل ہو گئی اور الحسناوی اس کے ایک کمانڈر کے طور پر نمایاں ہوا۔ بنغازی میں الکرامہ آپریشن کے آغاز کے بعد الحسناوی واپس لیبیا آ گیا۔ اس موقع پر جنرل نیشنل کانگریس کی حکومت کے وزیر دفاع نے اسے فوج کے خلاف لڑائی میں بنغازی شوری کونسل کی سپورٹ کی ذمے داری سونپی۔ نومبر 2016 میں میڈیا میں الحسناوی کے فضائی بم باری میں ہلاک ہونے کا دعوی کیا گیا تاہم گزشتہ ماہ براک الشاطی کے اڈے پر حملے میں وہ پھر ظاہر ہو گیا۔

محمد باكير بنغازی انقلابی شوری کونسل کا ایک کمانڈر ہے۔ 2014 کے اواخر میں بنينا کے علاقے میں ایک معرکے کے دوران وہ اپنے بائیں بازو سے محروم ہو چکا ہے۔ باکیر نے مالی اور دیگر علاقوں سے القاعدہ تنظیم کے جنگجوؤں کو لیبیا منتقل کرنے کے عمل میں حصہ لیا تا کہ یہ عناصر لیبیا میں فوج کے خلاف لڑائی میں شریک ہوں۔ بعد ازاں وہ بنغازی دفاعی بریگیڈز کے ایک اہم ترین کمانڈر کے طور پر جانا گیا۔

محمد الدرسی "النص" کے خطاب سے مشہور ہے۔ اسے 2007 میں اردنی حکام نے دہشت گردی کے الزام میں عمر قید کی سزا دی تھی۔ اپریل 2014 میں لیبیا میں دہشت گرد گروپوں نے اردن کے سفیر فواز العطیان کو اغوا کر لیا تھا۔ سفیر کی رہائی کے بدلے اردن میں الدرسی کی رہائی عمل میں آئی۔

الدرسی کو بنغازی مجلس شوری کے بانی ارکان میں شمار کیا جاتا ہے جو اس کے ایک رہ نما کی صورت میں سامنے آیا۔ نومبر 2016 میں یمن میں القاعدہ تنظیم کے زیر انتظام اخبار "مسری" کو دیے گئے انٹرویو میں الدرسی نے الجزائر ، فلسطين، شام، عراق، يمن، افغانستان، میانمار، چیچنیا، صومالیہ، مالی وسطی افریقہ میں اپنے حامیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ آ کر بنغازی میں اس کی فورسز میں شامل ہو جائیں۔

لیبیا میں القاعدہ تنظیم کے ذرائع ابلاغ

التناصح میڈیا فاؤنڈیشن اور النبا چینل کو لیبیا میں تنظیم کے اہم ترین ذرائع ابلاغ میں شمار کیا جاتا ہے۔ ستمبر 2015 میں مذکورہ چینل نے عالمی سطح پر القاعدہ تنظیم کے ایک اہم کمانڈر عبدالحی یوسف کے انٹرویو کی میزبانی کی جو اسامہ بن لادن کے بہت قریب سمجھا جاتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں