.

حزب اللہ اور باغیوں کے درمیان لبنان ،شام سرحد پر جنگ بندی کا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان اور شام کے درمیان سرحد پر شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پا گیا ہے جبکہ حزب اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ سرحدی پہاڑی علاقے میں النصرہ محاذ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں فتح کے قریب ہے۔

حزب اللہ کے میڈیا کی اطلاع کے مطابق لبنان کے سرحدی قصبے عرسال کے نزدیک واقع علاقوں میں تمام محاذوں پر جمعرات کی صبح چھے بجے سے جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے۔اس علاقے میں النصرہ محاذ کے جنگجوؤں نے گذشتہ جمعہ کو شامی باغیوں کے خلاف دھاوا بولا تھا۔

لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی نے حزب اللہ اور شامی جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا کرایا ہے۔مذاکرات سے جانکاری رکھنے والے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ النصرہ محاذ کے جنگجوؤں نے شام میں باغیوں کے زیر قبضہ شہر ادلب تک جانے کے لیے ایک محفوظ راستے کے بدلے میں اس جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور اس روٹ پر اتفاق رائے کے لیے بات چیت جاری تھی۔

حزب اللہ کے مطابق جنگ بندی سمجھوتے کے تحت النصرہ محاذ نے شام میں شیعہ ملیشیا کے جن پانچ جنگجوؤں کو پکڑ رکھا ہے،وہ انھیں رہا کردے گی۔

لبنان کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ملک کی مرکزی سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ میجر جنرل عباس ابراہیم کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے اس سمجھوتے کی آیندہ چند روز میں تکمیل ہوگی۔جو شامی جنگجو اور شہری ادلب جانا چاہتے ہیں تو انھیں منظم انداز میں اور لبنانی ریاست کی نگرانی میں بھیجا جائے گا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ لبنانی ریڈ کراس شامی مہاجرین اور باغیوں کی واپسی کے عمل میں شامل ہوگی۔

لبنانی جنرل نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی رہائی کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’اس سمجھوتے کا مقصد لبنانی علاقے کو مزاحمت کاروں سے پاک کرنا ہے۔اس سے خواہ کسی کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ،تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے‘‘۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے بدھ کی رات ایک تقریر میں کہا تھا کہ لبنانی حکام اور النصرہ محاذ کے درمیان بات چیت شروع ہوگئی ہے۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کے جنگجو النصرہ محاذ کے جنگجوؤں کو شکست سے دوچار کرنے کے قریب ہیں اور اس تنظیم کے جنگجو جرود عرسال کے پہاڑی علاقے میں بہت سے علاقوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک لڑائی میں حزب اللہ کے بیس پچیس جنگجو مارے گئے ہیں جبکہ النصرہ محاذ کے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔حزب اللہ شامی اور لبنانی فوج کی مدد سے اس سے ملحقہ علاقے میں اب داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی تیاری کررہی ہے۔

حزب اللہ نے گذشتہ تین چار روز میں جرود عرسال میں واقع وادی الخیل کی جانب مختلف اطراف سے پیش قدمی کی ہے۔جرود عرسال لبنان کا ایک بنجر پہاڑی سرحدی علاقہ ہے اور یہاں القاعدہ سے وابستہ النصرہ محاذ اور داعش کے جنگجوؤں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے تھے۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی میں حزب اللہ نے سنی جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کی کمک کی بدولت ہی شامی فوج کو میدان جنگ میں کامیابیاں ملی ہیں اور اس نے باغیوں کے زیر قبضہ بہت سے شہر اور قصبے واپس لے لیے ہیں۔