.

حزب اللہ کا شام - لبنان سرحد پر فوجی کامیابیوں کا دعوی

حسن نصر اللہ نے کامیابی کا دعوی ایک نشری تقریر میں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے دعوی کیا ہے کہ شام اور لبنانی سرحد پر حزب اللہ اور نصرہ فرنٹ کے جنگجووں کی لڑائی میں ان کی تنظیم فتح کے قریب ہے۔

اپنے نشری خطاب میں سید حسن نصر اللہ نے دعوی کیا کہ ’’ہمیں ایک بڑی فوجی کامیابی ملنے والی ہے۔‘‘ ہمارے مخالف نصرہ فرنٹ کے جنگجو جرود عرسال کے اس بے آب و گیا پہاڑی سلسلےسے پسپا ہوتے جار ہے ہیں جہاں ماضی میں ان کا کنڑول تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی ختم ہونے پر لبنانی فوج نے ایران نواز حزب اللہ کو درخواست کی تو وہ اپنے زیر نگین آنے والے علاقے کا کنڑول لبنانی فوج کے حوالے کر دے گی۔

درایں اثنا حزب اللہ کے زیر انتظام چلنے والے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ بیروت کے مقامی وقت صبح چھ بجے سے عرسال کے تمام محاذوں پر سیز فائر ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متحارت گروپوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق النصرہ فرنٹ کے جنگجو اپنے اہل وعیال سمیت الجرود سے ادلب کی جانب نقل مکانی کریں گے جبکہ اس محفوظ راستے کے بدلے وہ 2016ء کو تل العیس کی لڑائی کے دوران اغوا کئے گئے حزب اللہ کے تین اہم افراد کو رہا کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس سارے معاملے کو جنرل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل عباس ابراہیم کی وساطت سے طے کیا گیا ہے جس میں حزب اللہ نے اپنے اغوا شدہ افراد کی رہائی کے لئے انسانی بنیادوں پر درخواست کی تھی۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لبنانی سیکیورٹی ادارے فتح شام فرنٹ ’’جفش‘‘ کے جنگجووں کی شام منتقلی کے عمل کی نگرانی کریں گے اور انہیں ہر ممکن تحفظ دیں گے۔

اس سے قبل’’العربیہ‘‘ کی نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا تھا کہ لبنان کی حکومت نے ایک سیاسی فیصلے کے تحت اپنی فوج کو داعش کے خلاف القاع کے علاقے میں آپریشن کا حکم دیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہماری نمائندہ کو بتایا کہ’’ لبنانی فوج داعش کو الجرود کے علاقے سے نکالے گی، اس کارروائی میں اسے کسی لبنانی یا شامی گروہ کا تعاون حاصل نہیں ہو گا۔‘‘

القاع میونسپلٹی میں مسلح افراد کے داخلے کی خبروں کے بعد علاقے میں پریشانی پھیل گئی کیونکہ داعش میونسپلٹی کی حدود میں پہاڑوں میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ القاع کے علاقے میں رواں برس کے دوران داعش کے جنگجو تقریبا آٹھ خودکش حملے کر چکے ہیں۔
گزشتہ روز جرود العرسال پر توپخانے سے شدید گولا باری کی گئی جس کے نتیجے میں دو شامی جاں بحق اور آٹھ دوسرے زخمی ہو گئے۔ یہ گولا باری حزب اللہ نے وادی حمید کیمپ پر کی تھی۔

حزب اللہ ملیشیا کی جانب سے چھ دن پہلے شروع کی لڑائی کے بعد جرود عرسال کے محاذ پر ’’محتاط سکون‘‘ دکھائی دیا۔ گزشتہ شب شامی طیاروں نے الجرود کے علاقے میں النصرہ فرنٹ کے باقی رہ جانے والے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی۔

’’العربیہ‘‘ اور ’’الحدث‘‘ نیوز چینلز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور سرایا اھل الشام کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے۔ موخر الذکر تنظیم کے ارکان کی تعداد 120 ہے جنہیں اہل خانہ سمیت جرود عرسال کے وادی حمید کیمپ سے باہر نکالنا مقصود ہے۔

ادھر حزب اللہ کے قریبی میڈیا نے بتایا ہے کہ داعش کے ساتھ اس بات پر ہو رہی ہے کہ تنظیم شام کی سمت چلی جائے اور جرود، القاع اور راس بعلبک میں لڑائی سے احتراز کرے۔