.

مسجد اقصی سے تمام سیکیورٹی اقدامات ختم کر دیئے ہیں:اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس کے حرم قدسی میں متعارف کرائے تمام متنازع سیکیورٹی اقدامات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

غیر معمولی متنازع سیکیورٹی اقدامات اسرائیل نے چودہ جولائی کو مسجد اقصی میں فلسطینی نوجوانوں کے ہاتھوں دو صہیونی پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد نافذ کئے تھے جس پر فلسطین سمیت عرب اور اسلامی دنیا سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔ ان اقدامات کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان خونریز تصادم بھی دیکھنے میں آئے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی پولیس کی ترجمان لوبا السمری نے جمعرات کے روز بتایا کہ حرم قدسی کے باہر سیکیورٹی اقدامات کو چودہ جولائی سے پہلے کی صورتحال پر بحال کر دیا گیا ہے جو دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے قتل سے پہلے رائج تھے۔

’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ جمعرات کو نماز فجر کے وقت قابض اسرائیلی فوج نے باب الاسباط کے سامنے لگائے گئے لوہے کے گیٹس ختم کرتے ہوئے سمارٹ کیمرے نصب کرنے کے لئے بنائے گئے پل بھی ہٹا دئے۔ اس صورتحال کے بعد اسرائیل نے مزید ان اقدامات کو بھی ہٹانا شروع کر دیا جن پر فلسطینیوں کو اعتراض تھا اور وہ پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کے لئے ان کا خاتمہ ضروری خیال کرتے تھے۔

ادھر مفتی القدس نے ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصی میں صورتحال پہلے کی طرح بحال ہو گئی ہے، اب ہم وہاں نماز ادا کریں گے۔
فلسطینی وزیر اوقاف سے مس

مسجد اقصی سے اسرائیلی سیکیورٹی اقدامات کی واپسی کو ’’بڑی کامیابی‘‘ قرار دیا ہے۔ اسلامی اوقاف سرکل کا کہنا ہے کہ وہی دراصل مسجد اقصی کی متولی ہے۔ مسجد اقصی میں داخلے کے لئے عمر کی شرط کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

قابض اسرائیلی حکام نے چند روز قبل مسجد اقصی کے باب الاسباط نامی دروازے کے سامنے میٹل گیٹس لگا دیئے تھے۔ نیز انہیں مسجد اقصی کے سامنے نصب الیکڑانک گیٹس سے جوڑ دیا گیا تھا۔


منگل کے روز اسرائیل نے مسجد اقصی کے داخلی راستے پر لگائے الیکٹرانک گیٹس اور کیمرے ہٹا دیے تھے۔