.

’’عالمی رہنماوں سے شاہ سلمان کے رابطے مسجد اقصی کھلوانے کا باعث بنے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین نے مسجد اقصی میں حالیہ چند دنوں کے دوران ہونے والے واقعات کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد عالمی رہنماوں سے رابطے کئے۔

جمعرات کے روز شاہی دیوان سے جاری اعلان کے مطابق ان رابطوں کا مقصد اسرائیل پر دباو ڈالنا تھا کہ وہ مسلمانوں پر مسجد اقصی کے دروازے بند کرنے سے باز رہے اور قبلہ اول میں نمازیوں کے داخلے پر عاید ناروا پابندیاں ختم کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’شاہ سلمان کی کوششیں صورتحال کے استحکام اور نمازیوں کے اطمینان، سلامتی اور وقار کو یقینی بنانے کے لئے بار آور ثابت ہوئیں۔ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ مسجد اقصی پر مسلمانوں کے حق ہے۔ اسی حق کے پیش نظر وہ تمام تر آسانیوں اور اطمینان سے وہاں اپنی عبادات ادا کرنے کے مجاز ہیں۔‘‘

خادم الحرمین الشریفین نے حرم مسجد اقصی شریف اور اس کے اردگرد سکون بحال رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ’’ اس جگہ کا تقدس بحال رکھا جائے اور مسلمانوں کو آرام اور سہولت کے ساتھ مسجد میں عبادات ادائی کے لئے داخل ہونے دیا جائے۔‘‘
بیان کے مطابق سعودی عرب عرب امن منصوبہ، دو ریاستی حل اور بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ فلسطین کے جامع اور عادلانہ حل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

اس سے قبل فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی پولیس کی ترجمان لوبا السمری نے جمعرات کے روز بتایا کہ حرم قدسی کے باہر سیکیورٹی اقدامات کو چودہ جولائی سے پہلے کی صورتحال پر بحال کر دیا گیا ہے جو دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے قتل سے پہلے رائج تھے۔

’’العربیہ‘‘ کے نامہ نگار نے بتایا کہ جمعرات کو نماز فجر کے وقت قابض اسرائیلی فوج نے باب الاسباط کے سامنے لگائے گئے لوہے کے گیٹس ختم کرتے ہوئے سمارٹ کیمرے نصب کرنے کے لئے بنائے گئے پل بھی ہٹا دئے۔ اس صورتحال کے بعد اسرائیل نے مزید ان اقدامات کو بھی ہٹانا شروع کر دیا جن پر فلسطینیوں کو اعتراض تھا اور وہ پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کے لئے ان کا خاتمہ ضروری خیال کرتے تھے۔