ایرانی بینکاری نظام زمین بوس ہونے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ویب سائٹ The Monitor کے مطابق ایران کا بینکاری نظام ملک میں کسی حقیقی اصلاحی پروگرام کے نہ ہونے کے سبب اس وقت ڈھیر ہونے کے قریب ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں نئی تشویش کا باعث بینک ہیں۔ اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ ملک میں بینکوں کو اُسی انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے ملک کے مالیاتی ادارے چند ہفتے قبل دوچار ہو چکے ہیں۔

ایران کے بڑے مالیاتی اداروں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی شہریوں پر کاری ضرب پڑی جنہوں نے اپنی بچت کا بڑا حصہ ایک روز میں گنوا دیا۔

ایرانی پارلیمنٹ ملک میں مرکزی بینک پر دباؤ ڈال رہا ہے تا کہ مالیاتی ادارے بینک کی نگرانی اور قانونی کڑی نظر کے تحت آ جائیں۔ ان مالیاتی اداروں کے متاثرین کی جانب سے سڑکوں پر اور بینکوں کے سامنے احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق ایران میں اس وقت بینکوں کے دیوالیہ ہونے کے اندیشے سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو ایران کو ایک غیر مسبوق نوعیت کے اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی انتخابی مہم کے دوران ووٹروں کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ایران میں معاشی حالات کو بہتر بنایا جائے اور ملکی معیشت کو درست کیا جائے۔

ایرانی بینکوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر اس وقت سیالیت کی قلت کا سامنا ہے۔

ایرانی امور کے مبصرین کے نزدیک صدر حسن روحانی حقیقی اقتصادی اصلاحات کرنے کے بعد ہی اپنے ووٹروں سے ملکی معیشت کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو پورا کر سکیں گے۔ اس کے بغیر یہ مشن آنے والے سالوں میں ناممکن ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں