ایران کا وہ شہر جس کی ایک تہائی آبادی خود کشی کر چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایران کے مغربی صوبے عیلام کے شہر ایوان کو خود کشی کے وسیع رجحان کے سبب شہرت حاصل ہے۔ یہاں پر خود کشی کرنے والے افراد کی تعداد شہر کی ایک تہائی آبادی کے برابر ہے۔ گلے میں پھندا ڈال کر ، نیند آور گولیاں کھا کر یا خود سوزی کے ذریعے موت کو سینے سے لگانے والے افراد کے اس فعل کے پیچھے موجود بڑے عوامل میں غربت ، بے روزگاری اور تشدد اہم ترین ہیں۔

سرکاری اخبار "ایران" نے اِس کُرد شہر میں خود کشی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ شہر ایران اور دنیا بھر میں خود کشی کے واقعات کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے شہر میں ہونے والی خود کشیوں میں سے چند اہم واقعات کو منتخب کیا ہے۔ ان میں پہلا قصہ ایک نوجوان کا ہے جس نے حال ہی میں وفات پانے والی اپنی بیوی کی تصاویر اور کپڑوں کو جمع کیا اور پھر انہیں مرنے والی کی قبر پر رکھ دیا۔ اس کے بعد لانڈری جا کر وہاں گلے میں پانی کا پائپ ڈال کر اپنا گلا گھونٹ دیا تاہم حسن اتفاق سے وہاں چند نوجوانوں آ گئے اور انہوں نے اسے بچا لیا۔ اگلے روز وہ پھر سے اپنی بیوی کی قبر پر آ بیٹھا اور غروب آفتاب تک وہیں موجود رہا۔ نوجوان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک بار پھر خود کشی کی کوشش کرے۔

دوسرا واقعے میں ایک نوجوان نے بتایا کہ اس کے ایک بھائی ، خالہ زاد بہن اور چچا زاد بہن نے انتہائی شقاوت پر مبنی طریقوں سے خود کشی کی کوشش کی۔ اس نے بتایا کہ مرد عموما غربت اور بے روزگاری کے سبب خود کشی کرتے ہیں جب کہ خواتین کے اس اقدام کی دیگر وجوہات ہوتی ہیں۔ نوجوان کے مطابق اس کے بھائی نے بے روزگاری اور غربت سے تنگ آ کر خود کشی کی کوشش کی.. جب کہ خالہ زاد بہن جو شوہر سے علاحدہ ہو چکی ہے اپنے بھائیوں کے اہانت آمیز سلوک کو برداشت نہ کر سکی اور چچا زاد بہن کا شوہر اپنی بیوی پر سوکن لانا چاہتا تھا۔

ایک خاتون نے شہر میں نوجوانوں کے الم ناک حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ بے روزگاری ، ناکامی کے احساس اور تفریح کے امکانات نہ ہونے کے سبب خود کشی کا سہارا لیتے ہیں۔ علی نامی ایک 32 سالہ نوجوان کے مطابق ماضی میں عورتوں کے اندر خود کشی کرنے کا زیادہ تناسب پایا جاتا تھا تاہم اب پلڑا مردوں کی جانب جھک گیا ہے۔ علی کا کہنا ہے کہ اس نے بھی کئی مرتبہ خود کو موت کی نیند سلانے کے بارے میں سوچا کیوں کہ وہ کئی برس پہلے سِول انجینئر بن کر فارغ التحصیل ہوا تھا مگر ابھی تک روزگار اور مستقبل کے بغیر بیٹھا ہے۔

ایوان شہر میں بسنے والے ایک شخص نے مذکورہ اخبار کو بتایا کہ یہاں خواتین کی اکثریت خودکشی کرنے کے واسطے خود کو آگ لگا لیتی ہیں۔ اس شخص کی دو بہنوں نے ایک سال کے اندر یکے بعد دیگرے خود سوزی کر کے اپنی زندگیوں کا چراغ بجھا دیا۔ دونوں لڑکیاں اپنے شوہروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے سے تنگ آ چکی تھیں۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ شہر میں خود کشی کرنے والی زیادہ تر خواتین کی عمر تیس برس سے کم ہوتی ہے۔

شہر میں ایک گورکن نے اپنا نام ذکر نہ کرنے کی درخواست پر اپنے ہاتھوں اور جسم پر جلنے کے نشانات دکھائے۔ یہ اس کی خود کشی کی آخری کوشش تھی جب 29 برس کی عمر میں اس نے خود کو آگ لگا دی۔ تاہم اس پڑوسی نے فوری طور پر حرکت میں آ کر اس کو بچا لیا۔

مذکورہ گورکن نے بتایا کہ اس نے اپنے تین دوستوں کی خودکشی سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان میں پہلے دوست نے نیند کی گولیاں کھا کر ، دوسرے نے گلے میں پھندا ڈال کر اور تیسرے نے جان بوجھ کر اپنی گاڑی ایک دیوار سے ٹکرا کر اپنی زندگیوں کو ختم کیا۔ ان کے علاوہ گورکن نے اپنے مزید تین دوستوں کی اجتماعی خود کشی کا بھی ذکر کیا جنہوں نے ایک ساتھ اپنی زندگیوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان تینوں نے زہر کھا کر اپنے وعدے کو پورا کیا۔

ایک تحقیقی مرکز کی جانب سے کیے جانے والے تحقیقی مطالعے کے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سب سے زیادہ خود کشی کے واقعات دو شہروں ایوان اور درہ شہر میں پیش آتے ہیں جب کہ سب سے کم خود کشیاں دہلران اور مہران شہروں میں ہوتی ہیں۔

عیلام صوبے میں اسلامی یونی ورسٹی کی تدریسی کمیٹی کے ایک رکن موسی نجاد کا جو اس تحقیق کے نگرانوں میں شامل تھے.. کہنا ہے کہ صوبے میں خود کشی کرنے والوں کی اوسط عمر 25 برس ہے۔ نجاد کے مطابق خود کشی کا یہ رجحان بے روزگار اور کم تعلیم یافتہ نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے بعض افراد بھی اپنی زندگیوں کو ختم کرنے کے اس رجحان میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔

البتہ عیلام صوبے کے گورنر محمد رضا مروارید نے خود کشی کی شرح میں اضافے کا بنیادی سبب " ڈپریشن" کو قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں