دہشت گردی کے لیے قطر کی سپورٹ واضح ہے: سابق نائبCIA ڈائریکٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی مرکزی انٹیلی جنس کے سابق نائب ڈائریکٹر مائیکل مورل نے باور کرایا ہے کہ امریکا کی جانب سے دہشت گرد تنظیمیں قرار دی جانے والی تحریکوں مثلا حماس ، الاخوان المسلمین اور شام میں النصرہ فرنٹ کے لیے واضح اور کھلی سپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوحہ خطے میں ایک بڑا کھیل کھیل رہا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل BBS کے ایک پروگرام میں واشنگٹن میں اماراتی سفیر یوسف العتیبہ کے ساتھ بطور مہمان گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قطر قدرتی گیس کی دولت سے مالامال کم آبادی والا ایک چھوٹا سا ملک اور وہ خطے میں بڑا کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔

مورل نے واضح کیا کہ قطریوں نے ایسے مواقع تلاش کیے جو ان کو کچھ مختلف چیز پیش کرنے کے قابل بنا دے جس کے لیے انہوں نے دہشت گرد گروپوں سے رابطے بڑھائے اور ان کی سپورٹ کی۔

مورل کے مطابق قطر نے امریکا کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کو سپورٹ کیا اور حماس اور طالبان کے دوحہ میں سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں۔

جہاں تک الاخوان المسلمین کا تعلق ہے تو اس حوالے سے مورل نے باور کرایا کہ یقینا یہ ایک سیاسی تنظیم ہے جو مشرق وسطی کے عوام کے واسطے ایک مخصوص طرز زندگی چاہتا ہے اور قطر اس جماعت کو سپورٹ کرتا ہے۔

مورل کے مطابق قطر اپنے رسوخ اور سیاسی معاملات میں مداخلت کے ذریعے خطے میں وہ ہی کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے جو روس اس وقت امریکا میں ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب امریکا میں اماراتی سفیر یوسف العتیبہ نے گزشتہ 15 برسوں کے دوران قطر کی جانب سے دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ پر روشنی ڈالی جن مین شام اور لیبیا میں ملیشیاؤں کے علاوہ الاخوان المسلمین ، طالبان اور حماس شامل ہیں۔

العتیبہ کے مطابق قطر نے اپنے وعدوں اور ذمے داریوں کی پاسداری نہیں کی اور معاہدوں کی بارہا خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں