.

قطری اخوانی رہ نما کا تنظیم کے لیے دوحہ کی سپورٹ کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمود الجیدہ نے اماراتی ٹی وی چینلوں اور ویب سائٹوں پر نشر ہونے والی گفتگو میں قطر میں الاخوان بنانے ، اُس کا کا ڈھانچہ تشکیل دینے اور خلیج میں خفیہ الاخوان تنظیم میں شریک ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ الجیدہ ماضی میں اماراتی حکام کی جانب سے جیل کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں۔

محمود الجیدہ کے اعترافات خطے کے امور میں قطر کی مداخلت اور دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم الاخوان المسلمین کے ساتھ اس کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ تنظیم کو دوحہ کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔

عرب ممالک میں مذکورہ کالعدم تنظیم سے منحرف ہونے والے ارکان نے باور کرایا ہے کہ قطر کئی دہائیوں سے الاخوان تنظیم کی فنڈنگ کرنے والا مرکزی فریق ہے۔ امارات میں الاخوان تنظیم کے سقوط کے بعد قطر نے وہاں سے فرار ہونے والوں کو سپورٹ کیا اور ان عناصر کو قطر میں ملاقاتوں اور اجلاسوں کے انعقاد کی اجازت دی۔

علاوہ ازیں خلیج میں الاخوان کی خفیہ تنظیم کی نمایاں شخصیات نے تنظیم کے اندر محمود الجیدہ کے کردار کا انکشاف کیا۔ ان شخصیات کے مطابق جن میں کویتی ، بحرینی ، قطری اور اماراتی باشندے شامل ہیں.. الجیدہ نے تھائی لینڈ میں اُن سے ملاقات کی۔ الجیدہ کی ذمے داریوں میں امارات میں اور اس کے بیرون الاخوان کے ارکان کے علاوہ ترکی اور دیگر ممالک میں فرار ہو جانے والے مطلوب ارکان کو سپورٹ کرنا اور ان کو مالی رقوم پہنچانا شامل ہے۔

الجیدہ کو امارات میں ایک غیر قانونی خفیہ تنظیم کے ساتھ تعاون اور اس میں شریک ہونے کے الزام میں سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم ریاض معاہدے کے بعد امارات کے صدر نے الجیدہ کو رہا کر دیا اور وہ دوحہ لوٹ گیا۔