.

مکّہ کو نشانہ بنانے میں حوثیوں کو ایران کی سپورٹ ہے : یمنی نائب صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نائب صدر لیفٹننٹ جنرل علی محسن الاحمر نے حوثیوں کی جانب سے مسلمانوں کے قبلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کو دہشت گردی قرار دیا۔ اُن کے مطابق اس دہشت گرد کارروائی سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ الاحمر نے ایرانی فنڈنگ سے حوثیوں کی برپا کردہ سازش پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "مکہ مکرمہ پر میزائل داغے جانے کے حوالے سے جو چکھ ہوا اس کا ذمے دار ایران ہے۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اس کے سامنے ڈٹ جائے اور اس کی بھرپور مذمت کرے"۔

دوسری جانب شیعہ عالمِ دین اور لبنان میں اسلامی عربی کونسل کے سکریٹری جنرل محمد علی الحسینی کا کہنا ہے کہ تہران کی حوثیوں کے لیے سپورٹ اور ان کو مسلمانوں کے قبلے کو نشانہ بنانے پر اکسانا ایک بلا جواز حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

یمن کے حوثی باغیوں نے گزشتہ روز بیلسٹک میزائل کے ذریعے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم طائف شہر میں سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ سے 69 کلومیٹر کی دوری پر اس میزائل کو مار گرایا۔ واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

جامعہ الازہر میں کلیہ اصول الدین کے ڈین نے حوثیوں کے اس فعل کو خودکشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان تو دور کی بات اس امر کے بارے میں کوئی عاقل انسان تصور نہیں کر سکتا"۔