.

اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی دفتر کا سعودی اور اماراتی خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے مرکز کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دیے گئے بیانوں میں دونوں ممالک نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے حالیہ بین الاقوامی اقدامات کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کے مذکورہ مرکز کے واسطے مدد پیش کرنے کے پابند رہیں گے۔

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبداللہ المعلمی کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے دفتر کا قیام اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے ڈھانچے کی از سر نو تشکیل کے اقدامات کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد دہشت گردی کا انسداد اور اس کے سُوتوں کو خشک کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کا انسداد دہشت گردی کا دفتر جون میں قائم کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ساتھ براہ راست رابطے کے پیشِ نظر دفتر کو اپنے فرائض سر انجام دینے کے سلسلے میں پوری خود مختاری حاصل ہے۔

اس دفتر کی ذمے داریوں میں درجِ ذیل امور شامل ہیں :

- اقوام متحدہ کے متعلقہ 38 اداروں کے درمیان رابطہ کاری تا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے اقوام متحدہ کے چاروں زاویوں پر متوازن عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

- اقوام متحدہ کی جانب سے رکن ممالک کو پیش کی جانے والی امداد کی وصولی کے عمل کو مضبوط بنانا۔

- اقوام متحدہ کے نظام کے دائرہ کار میں انسداد دہشت گردی کو ترجیح دینے کو یقینی بنانا

- علاوہ ازیں دفتر کا مقصد سلامتی کونسل کی کمیٹیوں اور رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کا قیام بھی ہے۔ اس واسطے انسداد دہشت گردی سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم پیش کی۔