.

المخا میں دہشت گردی باغیوں کی شکست کی علامت ہے:بن دغر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیراعظم احمد بن دغر نے المخا شہر کی بندرگاہ پر باغیوں کی جانب سے بارود سے بھری کشتی کے ذریعے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قراردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ المخا میں بارود سے بھری کشتی کے ذریعے حملےسے باغیوں کی شکست فاش ثابت ہو رہی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں احمد بن دغر نے کہا کہ حوثی ملیشیا حکومتی فورسز اور عرب اتحاد کے آپریشن کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ دہشت گردوں کو حملے کے لئے نشانہ نہیں مل رہا اور وہ بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی سازشوں میں سرگرم ہیں۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی المخا بندرگاہ پر حوثی باغیوں کی کشتی کے ذریعے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ باغیوں کے طریقہ واردات سے لگتا ہے کہ وہ صرف تباہی پھیلانا چاہتےہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز المخا بندرگاہ کے ساحلی ٹرمینل کے قریب بارود سے بھری ایک کشتی کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا جسکے نتیجے میں پلیٹ فارم کومعمولی نقصان پہنچا تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ بہ ظاہر اس حملے کا مقصد بندرگاہ کے اس پلیٹ فارم کو تباہ کرنا تھا۔

عرب اتحادی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ باغیوں کی اس کارروائی کا مقصد طبی امداد اورجنگ سے متاثرہ شہریوں تک خوراک کی سپلائی کو روکنا ہے۔