.

خامنہ ای کا "حج کو سیاست میں ملوث کرنے کا" علانیہ مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم رہ نما علی خامنہ ای نے رواں سال ایک مرتبہ پھر "حج کو سیاست میں ملوث" کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مرشد اعلیٰ کی ویب سائٹ کے مطابق خامنہ ای نے اتوار کے روز حج کے امور سے متعلق متعدد ایرانی ذمے داران کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ "حج سب سے بڑا سماجی موقع ہوتا ہے تا کہ امت مسلمہ کے عقیدے کا اظہار کیا جائے"۔

ایرانی مرشد اعلیٰ نے اپنے خطاب میں استفسار کیا کہ " امت مسلمہ کو حج سے بہتر موقع کہاں ملے گا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے حوالے سے اپنے احتجاج کا اظہار کرے اور خطے میں امریکی شر انگیز وجود کے حوالے سے اپنے موقف کو ظاہر کرنے کی سب سے بہتر جگہ کون سی ہے ؟ خامنہ ای نے باور کرایا کہ "حج اس کے لیے بہترین مقام ہے"۔

بدعتی سرگرمیاں

خامنہ ای نے ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کی وصیت پر عمل درامد کا بھی مطالبہ کیا۔ اس وصیت کے مطابق "برأت کے بغیر حج بے معنی ہے"۔ اس سے مراد ایرانی حجاج کی جانب سے حج کے دوران "مشرکین سے برأت" کی سرگرمیاں انجام دینا ہے۔ خمینی نے 1979 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس عمل کو حج کی علامتوں میں سے قرار دیا تھا جب کہ شیعہ فقہاء اس کو محض "بدعتِ خمینیہ" قرار دیتے ہیں۔

ایرانی مذہبی شخصیت جلال کنجئی کے مطابق یہ ایک بدعت ہے جس کا اضافہ ملائیت کے نظام نے حج میں کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شیعہ فقہ کا علم رکھنے والا یہ جانتا ہے کہ اس میں بھی حج کے مناسک وہی ہیں جو بقیہ تمام مسلمان ادا کرتے ہیں۔ کنجئی کا کہنا ہے کہ ملاؤں کا نظام پروپیگنڈے سمیت کئی مقاصد کے واسطے حج سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مسلمان نوجوانوں کو جاسوسی اور دہشت گردی کے گروپوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

حج کو سیاست زدہ کرنے کی ناکام کوششیں

سعودی عرب نے گذشتہ دو برسوں بالخصوص گذشتہ حج سیزن کے دوران "حج کو سیاست سے آلودہ کرنے اور اس مقدس فریضے کی ادائی کے دوران انارکی ، شورش اور فتنہ پھیلانے کے ایرانی منصوبوں" کو ناکام بنایا۔ اس سلسلے میں مملکت نے تہران کی جانب سے سیاسی شرائط مسلط کرنے اور مناسک حج سے خارج رسموں کو حج سیزن میں داخل کرنے سے انکار کر دیا۔

گذشتہ حج سیزن کو سیاست سے آلودہ کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو جانے کے بعد ایران نے اپنے شہریوں کو حج پر جانے سے روک دیا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے پوری دنیا سے آنے والے ایرانی حجاج کے لیے دروازے کھول دیے اور سعودی سفارت خانوں کے ذریعے ایرانی عازمین کو حج کے ویزے جاری کیے۔

منی میں بھگدڑ کا واقعہ

حج کے دوران میں ہنگامہ آرائی، انارکی اور فتنہ پھیلانے کے حوالے سے ایران کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس ضمن میں نمایاں اور خطرناک ترین کارروائی 2015 میں منی میں بھگدڑ کا واقعہ ہے۔ اس سازش میں ایرانی سفارت کاروں کے علاوہ پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے افسر بھی ملوث تھے جو عام پاسپورٹوں کے ساتھ ایرانی حجاج کے درمیان گُھس بیٹھے تھے۔ بھگدڑ کے اس واقعے میں سیکڑوں حجاج کرام شہید اور زخمی ہو گئے تھے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خامنہ ای کی جانب سے حجاج کو سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جب کہ اس واقعے میں ملوث افراد خود ایرانی سکیورٹی اور فوجی اہل کار تھے جن میں سے بعض بھگدڑ کے دوران مارے بھی گئے۔ حج سیزن کے دوران 16 ایسی شخصیات تھیں جو سفارتی پاسپورٹ کے بغِر مملکت میں داخل ہوئیں۔ ان میں لبنان میں سابق ایرانی سفیر غضنفر رکن آبادی بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے بعض اہم افسروں کے نام بھی سامنے آئے۔ ان میں جنرل علی اصغر کے علاوہ پاسداران کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ برائے نفسیاتی جنگ عبداللہ ضیغمی بھی شامل تھا جس کا علامتی نام "جنرل مشفق" ہے۔