.

عراق : تلعفر آپریشن میں الحشد الشعبی ملیشیا کو شرکت کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے باور کرایا ہے کہ الحشد الشعبی ملیشیا تلعفر ضلعے کو داعش تنظیم کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے آئندہ فوجی مہم میں شریک ہو گی۔

عراقی یوتھ پارلیمنٹ کے تیسرے سیشن کے آغاز پر منعقد تقریب کے دوران العبادی کا کہنا تھا کہ حکومت اور سکیورٹی قیادت نے تلعفر کو جلد آزاد کرانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے جس میں تمام سکیورٹی ادارے اور مقامی اور قبائلی سطح پر الحشد الشعبی کی شرکت ہو گی۔

العبادی کے مطابق تلعفر کی آزادی کے منصوبے کے بعد کرکوک اور انبار کے مغربی حصوں کو آزاد کرائے جانے کے جامع منصوبے سامنے آئیں گے تا کہ داعش کو حتمی طور پر عراق سے باہر نکالا جائے۔

معرکے میں الحشد الشعبی ملیشیا کی شرکت پر وزیراعظم العبادی کی آمادگی ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب کہ اس ملیشیا کی جانب سے فرقہ وارانہ بنیاد پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے اندیشے کے سبب ترکی اور عراقی سیاسی شخصیات نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔

ترکی یہ دھمکی دے چکا ہے کہ تلعفر میں سنی ترکمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں وہ ضروری اقدام کرے گا۔

الحشد الشعبی ملیشیا کو سنی شہریوں کے خلاف وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ارتکاب سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ ان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران داعش تنظیم سے واپس لیے جانے والے علاقوں میں شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور ان کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیاں شامل ہیں۔

مبصرین کے نزدیک تلعفر کی واپسی کے لیے آپریشن میں تاخیر کا سبب اندرونی کشیدگی اور بیرونی دباؤ ہے۔