.

قطر کے خلاف دیگر اقدامات کیے جا سکتے ہیں: چار عرب ممالک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ کا کہنا ہے کہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک کا موقف یکساں اور اپنی جگہ پر قائم ہے جس کا مقصد عرب دنیا کی قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔ ادھر سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ حجاج کرام کی آمد کو آسان بنانے کے حوالے سے مملکت کی تاریخ واضح ہے۔

منامہ میں چاروں ممالک کے وزراء خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بحرین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ واحد تسلیم شدہ وساطت امیرِ کویت کی وساطت ہے۔ خالد بن احمد نے باور کرایا کہ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ روکنے کی حقیقی خواہش کا اظہار ناگزیر ہے۔

منامہ میں چاروں ممالک نے ایک مرتبہ پھر قطر سے دہشت گردی کی سپورٹ روک دینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر خادم حرمین شریفین کی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کو پیش کی جانے والی سہولیات کو بھرپور طریقے سے سراہا گیا.. ساتھ ہی قطری حجاج کے پہنچنے میں رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے دوحہ کے موقف کی مذمت کی گئی۔

چاروں ممالک کے وزراء خارجہ نے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور باور کرایا کہ اگر قطر نے مطالبات پر عمل درامد کرنے کے حوالے سے اپنی سچی خواہش کا اظہار کیا تو وہ دوحہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

اس موقع پر اماراتی وزیر خارجہ عبد الله بن زايد نے کہا کہ حالیہ بحران کی وجہ سے قطری شہریوں کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کی ذمے داری دوحہ پر ہو گی۔ اماراتی وزیر نے واضح کیا کہ قطر کے خلاف دیگر اقدامات کا مجموعہ بھی ہے جو ضرورت پڑنے پر کیے جا سکتے ہیں۔ عبداللہ بن زاید کے مطابق "ہم قطر کے بحران کو جلد از جلد ختم کرنے کے خواہش مند ہیں"۔

دوسری جانب مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ مملکت حجاج کرام اور معتمرین کی آمد کو آسان بنانے کے واسطے انتہائی کوششیں کر رہی ہے۔

الجبیر نے باور کرایا کہ سعودی عرب اس امر کا خیر مقدم کرتا ہے کہ قطری عازمین بھی دیگر حجاج کی طرح فریضہ حج ادا کریں۔
منامہ میں چاروں ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں " دوحہ حکام کی جانب سے قطری شہریوں کے مناسک حج کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کی بھرپور مذمت کی گئی"۔