.

حج میں مظاہرے کے لیے "القُدس" سے فائدہ نہ اٹھایا جائے : مسلم دانشور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر کے اربابِ علم و دانش پر مشتمل بین الاقوامی خود مختار تنظیم "مجلسِ مسلم دانش ور" نے اُن مطالبات سے خبردار کیا ہے جن میں حج کے دوران احتجاج اور مظاہروں کے لیے بیت المقدس کے حالیہ واقعات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجلس نے باور کرایا کہ یہ تمام آوازیں سیاسی اور فرقہ وارانہ ایجنڈا رکھتی ہیں۔

مجلسِ مسلم دانش ور نے پیر کے روز ابوظبی میں ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا۔ شیخ الازہر احمد الطیب کے زیر صدارت اجلاس میں مسجد اقصی اور فلسطینی عوام کے خلاف پامالیوں اور بیت المقدس کی یہودی شناخت بنانے کی اسرائیلی مسلسل کوششوں کو زیر بحث لایا گیا۔

مجلس نے واضح کیا کہ مسجد اقصی کی نصرت حج کے دوران مظاہروں اور احتجاج سے نہیں بلکہ اسرائیلی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے واسطے فلسطینی عوام کی پامردی کو سپورٹ کرنے سے ہو گی۔

مجلس نے اسلامی اور عرب ممالک کی قیادت اور تمام علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی دہشت گردی کو روکنے کے واسطے ٹھوس اقدامات اور مواقف کی ضرورت ہے تا کہ اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اوّل کے خلاف اشتعال انگیز کارستانیوں کے مسلسل وقوع کو روکا جا سکے۔

مجلسِ مسلم دانش ور نے باور کرایا فلسطینی عوام اور مقامات مقدسہ کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے اس کو تمام بین الاقوامی قوانین اور منشور حقیقی دہشت گردی پر مبنی جرائم شمار کرتے ہیں۔ مجلس نے خبردار کیا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں مذہبی جنگ کا شعلہ بھڑک سکتا ہے جو پوری خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

مجلس نے رواں سال ستمبر میں "بیت المقدس کے متعلق عالمی الازہر کانفرنس" میں اپنی شرکت کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی تمام متعلقہ اداروں ، تنظیموں اور انجمنوں سے اس کانفرنس میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا۔