.

"حرمین کی بین الاقوامی نگرانی" سے متعلق سعودی بیان کے بعد قطر کی بوکھلاہٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر نے رواں سال حج کے لیے اپنے شہریوں کے اندراج کو روکے جانے کی تردید کرتے ہوئے اس خبر کو من گھڑت اور حقائق کو مسخ کرنے والی قرار دیا۔ واضح رہے کہ قطر کی حج انتظامیہ کی ویب سائٹ پر قطری شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے لیے اندراج کا دروازہ مسلسل بند نظر آ رہا ہے۔

دوحہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ حجاج کی سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے قطر کے ساتھ رابطوں سے انکار کر کے مذہبی امور کو سیاست میں ملوث کر رہا ہے۔ اگرچہ قطر نے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عالمی تنظیم قطری حکام کے ساتھ مربوط ایک سوسائٹی کے ذریعے مداخلت کرے۔ اسی طرح قطر کے ذرائع ابلاغ میں بھی یہ مطالبات سامنے آئے ہیں کہ مقامات مقدسہ کو بین الاقوامی نگرانی کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان سب امور کے باوجود دوحہ نے مقامات مقدسہ کو بین الاقوامی نگرانی میں لانے کے حوالے سے خود پر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اس سے قبل یہ باور کرا چکے ہیں کہ مملکت حج کو سیاست سے آلودہ کرنے کے مسترد کرتی ہے جیسا کہ قطر کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ الجبیر نے قطری شہریوں کے لیے خیر مقدم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو حج سے روکنے کا فیصلہ قطری شہریوں کے لیے اس کے عدم احترام کا عکاس ہے۔