.

آئیکاؤ کے بعد قطر حج کو سیاست میں ملوث کرنے میں بھی ناکام ہوگا : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ قطر کا بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (آئیکاؤ( کو سیاست میں ملوث کرنے میں ناکام ہو جانا اس بات کا قبل از وقت انتباہ ہے کہ دوحہ کو حج کو سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش میں بھی مُنہ کی کھانی پڑے گی۔ انہوں نے باور کرایا کہ حالیہ بحران کے حل کا واحد راستہ یہ ہے کہ قطر خطے اور پڑوسی ممالک کے خلاف غلطیوں کے انبار پر صریح نظر ثانی کرے۔

سوشل میڈیا پر اپنی ایک ٹوئیٹ میں قرقاش نے کہا کہ قطر کی اپنے بحران کے ساتھ نمٹنے کی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہے کیوں کہ وہ 'بحران کی بنیاد یعنی شدت پسندی کی سپورٹ اور خطے کے ممالک کے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مداخلت' کا علاج نہیں کر رہا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بین الاقوامی فضائی حقوق کی ضامن تنظیم "آئیکاؤ" کا ایک اہم اجلاس گذشتہ روز ہوا جس میں قطر کی طرف سے دی گئی درخواست پر غور کیا گیا۔ اس درخواست میں آئیکاؤ سے کہا گیا تھا کہ وہ چار عرب ممالک کی طرف سے قطر کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کی مذمت کرے ، تاہم تنظیم نے عرب ملکوں کی مذمت کا مطالبہ مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ 1944ء میں قائم کی جانے والی اس تنظیم کے آرٹیکل 54 کے تحت رکن ممالک کی طرف سے دی گئی کسی بھی درخواست پر غور کے لیے خصوصی اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔ قطر اور اس کا بائیکاٹ کرنے والے چار رکنی عرب اتحاد اس تنظیم کا حصہ ہیں۔

گذشتہ روز آئیکاؤ کے اجلاس میں سعودی عرب کی جانب سے شہری ہوابازی اتھارٹی کے چیئرمین عبدالحکیم بن محمد التمیمی کی قیادت میں ایک وفد نے شرکت کی۔

اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نے کہا کہ ’آئیکاؤ‘ سیاسی تنازعات اور تکنیکی امور سے الگ الگ انداز میں نمٹتی ہے۔ تنظیم سیاسی نوعیت کے تنازعات میں غیر جانب دار ہے۔اس کے بعد قطری وزیر برائے فضائی نقل وحمل نے خطاب کیا جس میں انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین پر مشتمل اتحاد کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

قبل ازیں چاروں ملکوں نے قطر کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے ہوائی جہازوں کو خلیج اور مصر کی طرف سے 9 فضائی روٹس استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔