.

ایران : خاتمی کا روحانی پر اصلاح پسندوں سے رُخ پھیر لینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند گروہ کے سربراہ محمد خاتمی نے موجودہ صدر حسن روحانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ روحانی نے ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای اور سخت گیروں کے قریب آنے کے لیے اپنے اصلاح پسند حلیفوں سے منہ موڑ لیا ہے۔

ایرانی ویب سائٹ "جہان نیوز" کے مطابق اصلاح پسند گروہ کی رابطہ کار کمیٹی کے اجلاس کے دوران خاتمی نے کہا کہ " روحانی اُن وعدوں سے پِھر گئے ہیں جو انہوں نے انتخابات سے قبل ہم سے کیے تھے اور اب نوبت ہمارے بائیکاٹ تک پہنچ چکی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے ٹیلی فون کا بھی جواب نہیں دیتے۔ لہذا ہم واسطوں کے ذریعے ان سے بات چیت پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کبھی ان کے نائب جہانگیری کے ذریعے اور کبھی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے راستے"۔

خاتمی کے نزدیک روحانی نے محض انتخابی سیزن کے واسطے اصلاح پسندوں سے فائدہ اٹھایا اور اب وہ ان اصلاح پسندوں کو کمزور کر رہے ہیں یہاں تک کہ نئی حکومت کی تشکیل میں بھی۔

سابق صدر خاتمی نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ روحانی اپنی حکومت کے لیے اعتماد حاصل کرنے کے بعد آخرکار اصلاح پسندوں کے ساتھ اپنا تعلق ختم کر لیں گے۔ روحانی چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت غیر جماعتی بنیاد پر ہو اور اس میں بنیاد پرست گروہ کے سخت گیر عناصر بھی شامل ہوں۔

ایران میں اصلاح پسندوں اور روحانی کے درمیان اختلافات کا آغاز اُس وقت سے ہوا جب اصلاح پسندوں کے گروہ میں پالیسیوں کی سپریم کونسل کے سربراہ محمد رضا عارف نے جولائی کے وسط میں ایرانی صدر روحانی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی نئی حکومت کے واسطے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں اصلاح پسند "اُمید" گروپ کے ساتھ رابطہ کاری انجام دیں۔ جواب میں اعتدال پسند شمار کیے جانے والے روحانی اور ان کے حامیوں نے اس امر کو یکسر مسترد کر دیا۔

ایرانی صدر روحانی نے اپنے اصلاح پسند حلیفوں کو منانے کے بجائے مرشد اعلی علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کی قیادت کی جانب رخ کیا۔ روحانی نے انہیں وزارتی تشکیل کے نام پیش کیے اور ان کی موافقت حاصل کی۔

مقررہ پروگرام کے مطابق 3 اگست بروز جمعرات حسن روحانی دوسری مدت صدارت کے لیے سرکاری طور پر اپنا منصب سنبھالیں گے۔ روحانی کے حلف اٹھانے کے بعد ان کے پاس دو ہفتوں کی مہلت ہو گی جس کے دوران وہ اپنے تجویز کردہ وزراء کے نام پیش کریں گے اور ایرانی ارکانِ پارلیمنٹ 10 روز کے اندر ان وزراء کی اہلیت کو زیر بحث لائیں گے تا کہ ان کی منظوری دی جا سکے۔