.

قطر نے دہشت گرد تنظیموں کی سپورٹ اور اس کی فنڈنگ سے چشم پوشی کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان کی ایک ذیلی کمیٹی نے ماہرین کے ساتھ مل کر قطر کے حالیہ بحران سے متعلق ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس تجزیے میں گفتگو کرنے والے زیادہ تر افراد نے قطر کی پالیسیوں میں پائے جانے والے تضادات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی فنڈنگ اور اس کی سپورٹ کے حوالے سے چشم پوشی والا ماحول قرار دیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ سے متعلق ذیلی کمیٹی نے اجلاس میں قطری خارجہ پالیسی اور دہشت گردی کے لیے دوحہ کی سپورٹ کو موضوعِ بحث بنایا۔

ریپبلکن کمیٹی کی سربراہ ایلیانا روز لیٹنن کا کہنا تھا کہ دوحہ دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کے علاوہ شام میں کئی شدت پسند جماعتوں کو مالی معاونت پیش کرتا ہے۔

روز لیٹنن نے امریکی وزارت خزانہ کی سابقہ ذمے دارے کیتھرین پاور کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب اور امارات نے کوشش کی تھی کہ دوحہ کو دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے والوں کے خلاف اقدامات پر مجبور کریں مگر ایسا نہیں ہو سکا۔

ادھر Foundation for Defense of Democracies میں تحقیق کے نائب سربراہ جوناتھن شینزر نے ذیلی کمیٹی کے لیے ایک تحریری گواہی میں یہ بتایا کہ قطر نے کھُلے طور پر دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ کی۔ انہوں نے کہا کہ قطر میں امریکی اڈے کی موجودگی کے ہوتے ہوئے دہشت گرد جماعتوں کے لیے دوحہ کی سپورٹ ایسا تضاد ہے جس کو پاگل پن قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے میتھیو لیویٹ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دوحہ نے الجزیرہ چینل کے ذریعے شدت پسندوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا تا کہ وہ اپنے نظریات کو پھیلا سکیں۔