.

مصری ڈرائیور کو خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کے جرم میں 5 سال قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک عدالت نے ایک ڈرائیور کو خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اس ٹک ٹک ڈرائیور نے قریباً ایک سال قبل قاہرہ کی ایک شاہراہ پر راہ چلتی ایک خاتون ہند عبدالستار سے چھیڑ خانی کی تھی۔اس خاتون نے اس کی گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر بنا لی تھی اور پھر اس کو پولیس کے ہاتھوں پکڑوا دیا تھا۔ پولیس نے اس کے خلاف خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا تھا اور اسی بنیاد پر عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔

ہند عبدالستار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعے کے بارے میں بتایا کہ’’ میں قاہرہ کے علاقے حلوان میں اپنے مکان کے نزدیک پیدل چل رہی تھیں۔اس دوران میں اس ٹک ٹک ڈرائیور نے میرے ساتھ چھیڑ خانی کی کوشش کی تھی اور میرے جسم کو اپنے ہاتھ سے چھو لیا تھا‘‘۔

خاتون کے مطابق :’’ میں نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر میں نے اس کی گاڑی کی تصویر لے لی اور اس کے چہرے کے خدوخال کو پہچان لیا۔میں گھر سے نزدیک واقع پولیس اسٹیشن چلی گئی اور وہاں اس واقعے کو من وعن بیان کردیا۔ تب میں نے تمام تفصیل بتانے میں کوئی شرمساری یا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی تھی‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس ڈرائیور کو چند گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار کر لیا تھا۔ابتدا میں تو اس نے الزام کی تردید کی لیکن پھر اس نے خاتون کو ہراساں کرنے کا اعتراف کر لیا اور معافی کا خواست گار ہوا مگر ہند عبدالستار نے اس کو معافی دینے سے انکار کردیا تھا اور یوں پولیس نے اس کے خلاف کیس عدالت کو بھیج دیا۔

اس خاتون نے العربیہ کو مزید بتایا کہ ’’میرے اپنے خاندان نے اس اخلاق باختہ ڈرائیور کو معاف کرنے کی بار بار درخواست کی تھی اور مجھے یہ کہا تھا کہ میں اس کے خلاف کیس واپس لے لوں کیونکہ ملزم کی اس واقعے کے چند روز کے بعد ہی شادی ہوگئی تھی اور اس کے جیل جانے سے اس کی خانگی زندگی مسائل کا شکار ہوسکتی تھی لیکن میرا یہ موقف تھا کہ اس کو اس کے کیے کی قرار واقعی سزا ضرور ملنی چاہیے تاکہ دوسروں کو نصیحت ہوسکے‘‘۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصر ان چند ایک ممالک میں شامل ہے جہاں عوامی مقامات پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے یا راہ چلتی خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی کے سب سے زیادہ واقعات پیش آتے ہیں۔