.

’سفارت خانے پرحملے کی تحقیقات میں ایران کا طرز عمل منافقانہ‘

تہران ٹال مٹول کے بجائے مجرموں کو کٹہرے میں لائے:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے جنوری 2016ء کو تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر بلوائیوں کی یلغار کی تحقیقات میں لاپرواہی برتنے پر ایرانی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سفارت خانے اور قونصل خانے پر شرپسندوں کےحملے کی تحقیقات کے حوالے سے تہران سرکار کا طرز عمل منافقانہ ہے۔ ایرانی حکومت نے سفارت خانے پرحملے کے واقعے کی تحقیقات کے بجائے اس سے پہلو تہی اختیار کی اور ٹال مٹول سے کام لیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام دانستہ طور پر سفارتی اختیارات کے حصول کے ذریعے سعودی عرب کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی ہٹ دھرمی اور لاپرواہی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایرانی حکومت نے تہران میں سعودی سفارت خانے کے معائنے کے لیے ریاض کی تحقیقاتی ٹیم کو وہاں جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران بین الاقوامی سفارتی آداب اور قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کا مرتکب ہے۔ سعودی عرب نے بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے سفارتی قوانین کی خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لے اور ڈیڑھ سال قبل سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر بلوائیوں کے ہونے والے حملوں کی جامع تحقیقات کرائی جائیں۔