.

ادلب پر’تحریر الشام‘ کے قبضے کے سنگین نتائج پرامریکی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے خبردار کیا ہے کہ شام کے شمال مغربی شہر ادلب پر ’تحریر الشام‘ تنظیم کے جنگجوؤں کا قبضہ شمالی شام کے مستقبل کو سنگین خطرات سے دوچار کرے گا اور اس پیش رفت کے نتیجے میں ادلب میں ایک بار پھر لڑائی چھڑ سکتی ہے۔ روس کی جانب سے روکے گئے فضائی حملے بھی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار مائیکل راٹنی نے ’تحریر الشام محاذ‘ کی جانب سے ادلب پر کیے گئے تازہ حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ماضی میں النصرہ فرنٹ کے نام سے لڑنے والی یہ تنظیم القاعدہ کی ہم خیال سمجھی جاتی ہے۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تحریر الشام کے ادلب پر قبضے سے شمالی شام کا مستقبل سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

مسٹر راٹنی جو امریکا اور روس کے درمیان خفیہ مذاکرات میں بھی شامل رہے ہیں کا کہنا ہے کہ جولائی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان شام میں جنگ بندی کا اعلان شمالی شام کے بہت بڑی مصیبت کی بناء پر کیا تھا۔ دونوں ملکوں کی جانب سے شام کی جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ دور میں یہ سب سے نمایاں پیش رفت تھی۔

مسٹر راٹنی کا کہنا ہے کہ اگر ادلب پر النصرہ فرنٹ قبضہ کرتی ہے تو امریکا کے لیے عالمی برادری کو فوجی کارروائیوں کے لیے قائل کرنا مشکل ہو گا۔

فضائی حملوں کا خدشہ

خیال رہے کہ شمالی شام میں ادلب شہر ملک کے شمالی علاقوں کا سب سے بڑا علاقہ ہے جس پر شامی فوج کا کنٹرول بحال نہیں کیا جاسکا۔ یہی وجہ ہے کہ شامی اور روسی افواج کے بمبار طیارے اس شہر میں موجود باغیوں کے ٹھکانوں پر مسلسل بمباری کرتے ہیں۔ اس بمباری کے نتیجے میں سیکڑوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

زراعت کے حوالے سے مشہور شام کے اس شہرمیں گذشتہ مئی میں روس اور ترکی نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ترکی اور روس کے درمیان طے پائے معاہدے میں شام میں چار محفوظ زون کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا جن مں سے ایک زون ادلب کا علاقہ قراردیا گیا تھا۔
مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ اگر النصرہ فرنت ادلب میں داخل ہوتی ہے تو روسی فوج اور اسد رجیم مل کر اسے دوسرا حلب بنانے کے لیے وحشیانہ بمباری شروع کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ادلب میں 20 لاکھ سے زاید افراد رہائش پذیر ہیں۔ ادلب گورنری کی آبادی میں اس وقت اور اضافہ ہوگیا تھا جب حلب سے شامی باغیوں کے خاندانوں کی بڑی تعداد اس علاقےمیں منتقل کی گئی تھی۔