.

تیونسی اسلام پسند لیڈر الغنوشی کی ’ٹائی‘ پرنئی بحث چھڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی عرب ملک تیونس کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما اور تحریک النہضہ کے امیر علامہ راشد الغنوشی ایک بارپھر سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ کچھ عرصبہ قبل انہوں نے سیاست اور مذہب کی یکجائی کا فلسفہ ترک کرکے اعتدال پسندانہ جمہوری طرز عمل اختیار کیا تھا جس پر افریقا اور دوسرے ملکوں میں بھی کافی بحث کی گئی۔ اب کی بار راشد الغنوشی کے گرد گھومنے والی بحث ان کے لباس کے بارے میں ہے جس سے افکار کی تبدیلی کا بھی تاثر ابھرتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کچھ دنوں سے افریقا سوشل میڈیا پر الشیخ راشد الغنوشی کی ایک تصویر وائرل ہے جس میں انہیں خلاف معمول ’ٹائی‘ پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں راشد الغنوشی کی ’ٹائی‘ کو مختلف پیرایوں میں دیکھا جا رہا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ پیش آئند انتخابات کی تیاری کا حصہ ہے۔ مذہب سے زیادہ لگاؤ رکھنے والوں نے اسے ایک خطرناک رحجان قرار دیا جب کہ بعض کا خیال ہے کہ راشد الغنوشی کی ٹائی میں تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت تحریک النہضہ مہذبانہ اور جدید شہری اصولوں کو اپناتے ہوئے تبدیلی کے ایک نئے دور سےگذر رہے ہیں۔

علامہ راشد الغنوشی کو حال ہی میں تیونس میں مراکش کے سفارت خانے میں منعقدہ ایک تقریب میں دیکھا گیا جہاں وہ خلاف معمول نیلے کے کوٹ اور ٹائی پہنے موجود تھے۔ یہ پہلا موقع ہے جب الغنوشی کو اس لباس میں دیکھا گیا۔ ورنہ وہ عموما تیونس کا قومی لباس یا مذہبی اقدار کے قریب سمجھا جانے والا لباس ہی زیب تن کرتے تھے۔

بعد ازاں الغنوشی کو ایک نجی ٹی وی چینل ’النسمہ‘ کے ایک ٹاک شومیں بھی ٹائی پہنے دیکھا گیا۔

جماعت کے سربراہ کی ٹائی پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے النہضہ کے ایک سرکردہ رہ نما لطفی زیتون نے الغنوشی کی ٹائی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ الغنوشی کی ٹائی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ ایک گروہ اور جماعت کے بجائے پورے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ایک جماعت کی نہیں بلکہ پوری مملکت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر الغنوشی کی ٹائی نے کافی ’کھپ‘ ڈالی ہوئی ہے، جہاں ان کے حامی اور مخالفین کے درمیان بھی ’ٹائی‘ دیکھی جاسکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 70 سالہ ایک مذہبی رہ نما سیاسی سلام کے تصور کو ترک کرنے کے بعد مزید کیا ترک کرنا چاہتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ الغنوشی کی ٹائی پر بحث بے مقصد ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں ٹائی پہنی ہے جب ملک کئی بحرانوں سے گذر رہا ہے۔

سماجی کارکن اور بلاگر محمود نعمان لکھتے ہیں کہ ’الغنوشی کی ٹائی کسی فرد واحد کا عمل نہیں بلکہ ایک مکمل ٹیم کے مشترکہ عمل کا اظہار ہے جو ایک نئے دور میں داخل ہونے کے لیے اپنی پالیسیوں اور طریقہ کار کو تبدیل کررہی ہے۔ الغنوشی کی ٹائی سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ وہ آئندہ کے صدارتی انتخابات کی تیاری کررہے ہیں۔ الغنوشی وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں جو سابق اسلام پسند صدر منصف المرزوقی نہیں کرسکے۔ خیال رہے کہ المرزوقی نے اپنے عرصہ صدارت کے دوران ایک بار بھی ٹائی نہیں پہنی۔ وہ مزاحیہ انداز میں اکثر کہا کرتے تھے کہ جب الغنوشی ٹائی پہنیں گے تو میں بھی پہن لوں گا۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث میں سابق صدر المرزوقی کو بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اب ٹائی پہن سکتے ہیں کیونکہ ان کی جماعت کے امیر علامہ راشد الغنوشی ’مشرف بہ ٹائی‘ ہوچکے ہیں۔