.

ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ "احمقانہ" ہے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار" واشنگٹن پوسٹ" نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے کے ساتھ طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے کو "احمقانہ" قرار دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ان کے ملک نے اس معاہدے سے کچھ حاصل نہیں کیا۔ ٹرمپ نے یہ بات آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرنبل کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں کہی۔

امریکی اخبار نے اس امر کی تصدیق کی کہ اسے ٹرنبل اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کا متن موصول ہوا ہے جس میں ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " تزویراتی ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے اور نیوکلیئر معاہدے سے امریکا کو کچھ نہیں ملے گا"۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ " مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کے احمقانہ معاہدے طے کرنے کے لیے یہ شخصیات کہاں سے ملیں.. اس طرح کے کام مجھے مار دیتے ہیں"۔

اس پر آسٹریلوی وزیر اعظم کا جواب تھا کہ " نہیں.. ایسا ہر گز نہیں ہو گا"۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں تہران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کی مخالفت کی تھی۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کا کہنا ہوتا تھا کہ وہ انتخابات جیتنے کی صورت میں اس معاہدے کو پھاڑ دیں گے۔

وہائٹ ہاؤس پہنچنے کے بعد سے امریکی صدر تہران کے خلاف پابندیوں پر دستخط کر رہے ہیں۔ ان میں آخری کارروائی بدھ کے روز کی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد پاسداران انقلاب اور ایران کے میزائل پروگرام کی سرگرمیوں سے تعلق رکھنے والے اداروں اور افراد کو نشانہ بنانا ہے۔

مشرق وسطی بالخصوص شام اور یمن میں امن و استحکام کو متزلزل کرنے میں ایران کے کردار کے سبب تہران کے خلاف امریکی سرکاری بیانات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس دوران امریکی وزراء دفاع اور خارجہ نے تہران کے حوالے سے سابقہ دور کے برخلاف واشنگٹن کی پالیسی تبدیل کیے جانے کا عہد کیا ہے۔