.

نیتن یاھو کا فلسطین میں غیرقانونی یہودی آباد کاری پر اظہار تفاخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے شدت پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فخریہ انداز میں فلسطین میں یہودی آباد کاری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطین میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے میں ’بیتار علیت‘ یہودی کالونی میں نئی تعمیرات کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر تقریب سے خطاب میں نیتن یاھو نے کہا کہ ’ماضی میں کسی اسرائیلی حکومت نے فلسطینی عرب علاقوں میں یہودی آباد کاری پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی توجہ ہماری حکومت میں دی گئی ہے، میری حکومت یہودی آباد کاری کی پرزور حامی ہے اور مجھے اس پر فخر ہے‘۔

نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ میری زیرنگرانی قائم حکومت نے اسرائیلی قوم کی بہت خدمت کی۔ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے جتنے منصوبے ہم نے شروع کیے کسی اور حکومت کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ غرب اردن میں قائم بیتار علیت کالونی میں 50 ہزار یہودی آباد ہیں۔ اس کالونی کے اندر نیتن یاھو نے نئے رہائشی بلاکس کی تعمیر کی منظوری دی ہے جس کا سنگ بنیاد گذشتہ روز رکھا گیا۔ ان نئی تعمیرات میں مزید ایک ہزار رہائشی اپارٹمنٹ شامل ہیں۔

اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق سنہ 2009ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد براہ راست کسی یہودی کالونی کے توسیع منصوبے کے سنگ بنیاد میں نیتن یاھو کی شرکت کا یہ پہلا موقع ہے۔

نیتن یاھو نے مزید کہا کہ ’ہم یہودی آباد کاری کی خاطر پوری عزم کے ساتھ کام جاری رکھیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ’عمیحائی‘ یہودی کالونی میں جلد از جلد تعمیرات مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کالونی گذشتہ اڑھائی عشروں کے دوران سب سے بڑا رہائشی منصوبہ ہوگا۔

اس نئی کالونی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ سے خالی کرائی گئی’عمونا‘ کالونی سے نکالے گئے 40 یہودی خاندان بھی آباد کیے جائیں گے۔ عمونا کالونی فلطسینیوں کی نجی اراضی پر تعمیر کی گئی تھی۔ اسرائیلی سپریم کورٹ نے رواں سال فروری میں اس کالونی کو خالی کرتےہوئے اراضی اس کے مالکان کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ فلسطینی عرب شہروں میں اسرائیل کی طرف سے یہودی آباد کاری کو عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔