.

الرقہ میں 2000 داعشی جنگجوؤں کی موجودگی کا امریکی دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’داعش‘ مخالف عالمی اتحاد میں امریکا کے خصوصی ایلچی نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے شہر الرقہ میں داعش کے کم سے کم 2000 جنگجو موجود ہیں جو اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی عہدیدار بریٹ میک گورک نے گذشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ شام میں امریکا کی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز گذشتہ جون سے داعش کے خلاف برسرپیکار ہے۔ ڈیموکریٹک فورسز کو الرقہ میں قریبا دو ہزار داعشی جنگجوؤں کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الرقہ میں داعشی جنگجوؤں کی اصل تعداد کا تو اندازہ نہیں تاہم خیال ہے کہ وہاں پر کم سے کم دو ہزار داعشی جنگجو اب بھی موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں میک گورک نے کہا کہ امریکا اور روس کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے باوجود شام کے محاذ میں دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شام کے محاذ جنگ پر ترکی اور روس کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج کا آپس میں رابطہ قائم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الطبقہ کے اطراف میں تعینات اسدی فوج امریکی فوج کے قریب ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ 28 جون کو ہماری فورسز نے اسدی فوج کا ایک جنگی طیارہ اس وقت مار گرایا تھا جب وہ ہمارے فوجیوں کے ٹھکانوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کررہا تھا۔ روس کے تعاون سے امریکی اور شامی فوج کے درمیان تصادم کا خطرہ ٹل گیا تھا۔

عراق میں داعش کے خلاف آپریشن کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گیرک کا کہنا تھا کہ موصل سے داعش کا صفایا کیے جانے کے بعد اب تلعفر میں داعش کے خلاف مقابلہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تلعفرمیں داعش کے خلاف آپریشن کافی مشکل بھی ہوگا۔

میک گیرک نے کہا کہ عراقی فوج اور عوام مل کر داعش کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ تل عفر کے عوام بھی داعش سے نجات کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تل عفر میں عام شہری آبادی کی تعداد 20 ہزار جب کہ داعشی جنگجوؤں کی 1 ہزار کے قریب ہوگی۔