.

داعش کے خلاف جنگ میں شامی فوج سے کوئی رابطہ نہیں: لبنانی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج نے کہا ہے کہ شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں داعش کے خلاف لڑائی میں شامی فوج کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا جائے گا۔شامی فوج کے ایک ذریعے نے مقامی میڈیا کی دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان براہ راست رابطے سے متعلق رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

اس ذریعے نے کہا ہے کہ لبنانی فوج داعش کا مقابلہ کرنے اور کسی بھی علاقائی اور بین الاقوامی حمایت کے بغیر اس کو شکست دینے کی صلاحیت کی حامل ہے۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے گذشتہ ماہ سرحدی قصبے عرسال کے نواح میں واقع علاقے میں النصرہ محاذ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور کئی روز کی لڑائی کے بعد النصرہ محاذ کے جنگجو ایک سمجھوتے کے تحت شام میں باغیوں کے زیر قبضہ سرحدی علاقے کی جانب چلے گئے ہیں۔

النصرہ محاذ کے جنگجوؤں کے خلاف اس کارروائی میں لبنانی فوج نے حصہ نہیں لیا تھا۔اب توقع ہے کہ وہ داعش کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی میں قیادت کرے گی۔

حزب اللہ کے سربراہ سیّد حسن نصراللہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ سرحدی علاقے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف آیندہ چند روز میں حملے کا آغاز کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ لبنانی فوج سرحدی علاقے میں لبنانی حدود کی جانب سے داعش کے خلاف کارروائی کی جائے گی جبکہ شامی فوج اور حزب اللہ شام کے علاقے کی جانب سے داعش کے خلاف دھاوا بولے گی۔
واضح رہے کہ حزب اللہ صدر بشارالاسد کی فوج کے شانہ بشانہ گذشتہ چھے سال سے ملک میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں سنی باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شریک ہے۔

لبنانی روزنامے الجمہوریہ نے اپنی ہفتے کی اشاعت میں ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ داعش کے خلاف آیندہ کارروائی کے حوالے سے شامی اور لبنانی فوجوں کے درمیان براہ راست رابطہ ہوا ہے۔اس ذریعے نے یہ بھی کہا ہے کہ لبنانی فوج نے داعش کو مزید پھیلنے سے روکنے اور اس کی کمک کا راستہ کاٹنے کے لیے اس کے جنگجوؤں پر بعض حملے کیے تھے۔

لبنان کی سرکاری خبررساں ایجنسی این این اے اور حزب اللہ کے میڈیا یونٹ نے بھی یہ کہا ہے کہ لبنانی فوج نے لبنان کے راس بعلبک اور القاع کے علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔