.

عراق میں داعش کے ہاتھوں قتل شہریوں کی اجتماعی قبر دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکام نے بغداد کے مغرب میں واقع الانبار گورنری میں ایک اجتماعی قبر کا پتا چلایا ہے جس میں کم سے کم 40 افراد کی باقیات ملی ہیں۔ انہیں داعش نے سنہ 2015ء کے دوران اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز کے مطابق الانبار سے ملنے والی اجتماعی قبر میں دفن کیے گئے تمام مرد ہیں۔

عراقی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اجتماعی قبر میں دفن کیے گئے افراد جو الرمادی شہر کے قریب الطاش کے علاقے میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مقتولین کی لاشیں گل سڑ چکی ہیں مگر ان کی کھوپڑیوں سے پتا چلتا ہے کہ دہشت گردوں نے ان کے سروں میں گولیاں مار کر انہیں قتل کیا تھا۔

ادھر الانبار گورنری کی شہداء فانڈیشن کے ڈائریکٹر عمار الدلیمی نے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اجتماعی قبر سے 40 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقتولین کی کھوپڑیوں میں گولیاں لگی ہیں۔ تمام متقولین مرد ہیں۔ انہیں داعش نے 2015ء کو اس علاقے پر قبضے کے دوران گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

گذشتہ مئی میں عراقی حکام نے الرمادی میں تین مختلف مقامات پر الگ الگ اجتماعی قبریں دریافت کی تھیں۔ ان قبروں سے ملنے والی باقیات میں عراقی فوجیوں، خواتین اور بچوں کی میتیں بھی شامل تھیں۔