.

فلسطینی اتھارٹی کی امداد روکنے کے لیے امریکی قانون سازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس کی خارجہ کمیٹی نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی مالی امداد مشروط کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی امداد روکے جانے سے متعلق بل پر گذشتہ روز رائے شماری کی گئی۔ خارجہ کمیٹی کے 17 ارکان نے بل کی حمایت اور چار نے مخالفت کی۔

کمیٹی میں بل کی حمایت میں کی گئی رائے شماری کے دوران کثرت رائے سے بل منظور کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں اس بل کو رائے شماری کے لیے ایوان نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔

ادھر امریکا میں اسرائیلی اور یہودی لابی کی نمائندہ تنظیم ’ایپک‘ نے کانگریس میں فلسطینی اتھارٹی کی امداد کو مشروط کرنے کے بل کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک بیان میں صہیونی لابی کی نمائندگی کرنے والے گروپ ’ایپک‘ نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی امداد روکے جانے کی سفارشات پرمبنی اس بل پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

امکان ہے کہ کانگریس میں اس بل پر مزید غور سالانہ تعطیلات کے بعد کیا جائے گا، کیونکہ اگست سے کانگریس کی سالانہ تعطیلات بھی شروع ہو رہی ہیں۔

ڈیموکریٹک رکن کانگریس ٹوم اوڈال نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند کرنے سے فلسطین میں تشدد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔