.

قطر کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ، اشیاءِ صرف کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انقرہ اور تہران نے دوحہ کو درپیش بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کارگو جہازوں کے ذریعے اپنی غذائی مصنوعات کو قطر میں داخل کر دیا۔ واضح رہے کہ حالیہ لاگت اُس قیمت سے کہیں زیادہ ہے جس پر سعودی عرب یہ اشیاء فراہم کرتا تھا۔

ریاض عملی طور پر زمینی سرحد کے راستے قطر کو اعلی کوالٹی کی 90% کے قریب اشیاءِ صرف فراہم کرتا تھا۔ دوحہ کے بائیکاٹ کے تحت اس سرحد کو بند کر دیا گیا۔

عرب ممالک کے ساتھ تعلقات منقطع ہونے کے بحران کے تیسرے ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی قطر کی سرکاری معلومات اُس قیمت کا پتہ دے رہی ہے جو دوحہ کو اپنے پڑوسی ممالک کے سامنے ضد کے سبب چُکانا پڑ رہی ہے۔ اس سلسلے میں قطر کی جانب سے متبادل تجارتی کاوشیں بھی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں۔

ایک برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطر کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار ملکی بائیکاٹ کے نتیجے میں رواں سال جون کی درآمدات ایک برس پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریبا 40% اور ایک ماہ پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریبا 38% تک کم ہوئیں۔

اگرچہ درآمدات کی کمی کی مناسب شرح کو مثبت طور پر دیکھا جاتا ہے تاہم قطر کی درآمدات میں ہونے والے اس بڑی کمی کو تجارتی حرکت اور سپلائی چین کے درہم برہم ہونے کا اشاریہ شمار کیا جا رہا ہے۔

گیس کے سوا قطر کی بقیہ برآمدات میں کمی آئی ہے۔ بالخصوص پٹرولیم برآمدات 22% اور غیر پیٹرولیم برآمدات 15% تک کم ہو گئیں۔
اگرچہ قطر غذائی مواد کی ترسیل کی تلافی کے لیے ایران اور ترکی پر انحصار کر رہا ہے تاہم اس کا نتیجہ جون میں اشیاء خورد و نوش کی قیمت میں دو برسوں کے دوران تیز ترین اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ جون 2017 میں ان اشیاء کی قیمتیں جون 2016 کی مقابلے میں 2.4% تک بڑھ گئیں۔