.

شامی فوج کے دمشق میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر فضائی حملوں میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ آخری علاقے الجوبر پر گولہ باری اور فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔

قاسیون کی چوٹیوں سے شامی فوج کے ایلیٹ یونٹس نے الجوبر پر گولہ باری کی ہے۔یہ علاقہ قدیم شہر کی فصیل اور عین طرمہ سے جنوب میں واقع ہے۔شامی فوج کے اس حملے کے بعد روس کی ثالثی کے نتیجے میں دو ہفتے قبل اعلان کردہ جنگ بندی بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ روس نے شامی باغیوں سے مذاکرات کے بعد دمشق کے مشرق میں واقع علاقے الغوطہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

شہری دفاع کے ذرائع کے مطابق گذشتہ تین روز سے بمباری میں دس شہری مارے گئے ہیں۔ مشرقی الغوطہ میں واقع قصبوں زملکہ ، الحرستا اور کفر بطنہ پر بھی شامی فوج نے گولہ باری کی ہے۔

اگر شامی فوج اس مہم میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ تو پھر وہ مشرقی الغوطہ کے تمام علاقے پر دوبارہ کنٹرول میں بھی کامیاب ہوجائے گی۔باغی گروپوں کا ان علاقوں پر گذشتہ چھے سال سے قبضہ ہے۔الجوبر دمشق کے شمال مشرق میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں مشرقی الغوطہ کے علاقے عین طرمہ کے ساتھ واقع ہیں۔

شامی فوج باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر گیس کنستروں سے تیار شدہ ہاتھی راکٹ برسا رہی ہے۔ایک باغی گروپ فیلق الرحمان سے تعلق رکھنے والے ایک کمانڈر ابو عبادہ الشامی نے کہا ہے کہ ہم نے سرنگیں اور قلعہ نما ٹھکانے بنا لیے ہیں۔اس لیے یہ ہاتھی راکٹ ہمارے علاقوں تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔

باغی دمشق کے نواح میں ایک طرح سے اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں ۔قبل ازیں رواں سال کے دوران میں وہ الجوبر سے شمال میں واقع علاقوں قابون اور البرزہ سے محروم ہو چکے ہیں۔

ابو حمزہ نامی ایک اور باغی جنگجو کا کہنا ہے کہ ’’ یہ جنگ بندی ایک جھوٹ ہے۔اسد رجیم نے اس کا نفاذ نہیں کیا ہے۔وہ ہم پر کسی وقفے کے بغیر گولہ باری کرر ہی ہے اور ہم پر ہر طرح کے ہتھیار استعمال کیے جارہے ہیں‘‘۔

شامی حکومت نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ روس کی ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والی جنگ بندی کی پاسداری کرے گی لیکن وہ اسلامی جنگجو دھڑوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھے گی کیونکہ وہ جنگ بندی میں شامل نہیں۔