.

یمن امن بات چیت کو زندہ کرنے کے لیے خصوصی ایلچی اردن میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد امن مشاورت کے عمل کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے خطے کے نئے دورے میں اپنی دوسری منزل اردن پہنچ گئے۔ یمن امن مذاکرات گزشتہ ایک برس سے مشکلات سے دوچار ہیں۔

ولد الشیخ نے اپنے اس نئے دورے کا آغاز سلطنتِ عُمان کے دارالحکومت مسقط سے کیا تھا۔ وہ اردن کے بعد تیسرے مرحلے میں سعودی عرب جائیں گے۔

اردن کے دارالحکومت عَمّان میں ولد الشیخ نے یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی سے ملاقات کی۔ بات چیت میں المخلافی نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا ملک میں وسیع تباہی ، غربت میں اضافے اور وبائی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب ہے۔

خصوصی ایلچی اردنی فرماں روا شاہ عبداللہ دوم سے بھی ملاقات کریں گے۔

ادھر یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہ سے متعلق اقوام متحدہ کے منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت نے بھی میدان میں آتے ہوئے اس منصوبے کوبات چیت کے سابقہ ادوار کے ایجنڈے کے خلاف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب یمن کی آئینی حکومت نے باور کرایا ہے کہ وہ مذاکرات اور الحدیدہ کے حوالے سے نئے منصوبے پر ابھی تک اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ متفق نہیں ہوئی ہے۔

اسماعیل ولد احمد الشیخ کے خطے کے دورے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین بھی متحرک ہو گئی ہے۔ یورپی یونین کی مشن کی سربراہ یمن کا دورہ کر رہی ہیں۔ اس دورے کا مقصد باغیوں کو الحدیدہ بندرگاہ سے متعلق اقوام متحدہ کے نقشہ راہ کو قبول کرنے پر قائل کرنا ہے۔ منصوبے میں بندرگاہ سے باغیوں کے انخلاء اور اسے بطور ایک تیسرے غیر جانب دار فریق اقوام متحدہ کے حوالے کرنے کا تقاضہ کیا گیا۔