.

عراق: الحشد ملیشیا کے مراکزپر بمباری کی متضاد اطلاعات

اتحادی فوج کی بمباری کی تردید، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کی سرحد پر واقعے ایک قصبے میں عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے مراکز پر بمباری کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عالمی اتحادی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحادی فوج نے الحشد ملیشیا کے مراکز کو بمباری سے نشانہ نہیں بنایا۔ دوسری جانب داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

منگل کے روز مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں سے بعض میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا کی قیادت میں داعش کے خلاف سرگرم اتحادی فوج نے شام اور عراق کی سرحد پر الحشد ملیشیا کے مراکز پر فضائی حملے کئے ہیں جن کے نتیجے میں کم سے کم 36 شیعہ جنگجو ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب شدت پسند گروپ ’داعش‘ نے شام کی سرحد کے قریب الحشد ملییشا کے ٹھکانوں پر حملے کا دعویٰ کیاہے۔ داعش کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عکاشات کے مقام پر داعش نے تو پخانے سے الحشد ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں امریکا ملوث نہیں۔ داعش نے اس حملے کی ایک مبینہ ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں متعدد شیعہ جنگجوؤں کو گرفتار کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سوموار کی شام ہونے والے اس حملے میں الحشد ملیشیا کے درجنوں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

قبل ازیں عراقی فوج کے ایک سرکردہ ذریعے نے بتایا تھا کہ شام اور عراق کی سرحد کے قریب الحشد ملیشیا کے ٹھکانوں پر امریکا کی قیادت میں قائم عالمی فوجی اتحاد کے جنگی طیاروں نے بمباری کی ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق اتحادی طیاروں نے عراق اور شام کی سرحد پر 50 کلو میٹر مشرق میں واقع عکاشات قصبے میں الحشد ملیشیا کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ عراق اور شام کی سرحد پر الحشد ملیشیا نے اپنے جنگجوؤں کی بھاری تعداد تعینات کر رکھی ہے۔ اس تعیناتی کا مقصد دونوں ملکوں کی سرحد پر آمد ورفت کو کنٹرول کرنا ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے شام کی سرحد پرموجود امریکی فوج کی طرف سے الحشد کو پیش قدمی پر سنگین نتائج سے آگاہ کیا گیا تھا مگر اس کے باوجود یہ اطلاعات آئی ہیں کہ الحشد ملیشیا کے جنگجو شام اور عراق کی سرحد پر موجود ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’اناطولیہ‘ نے الحشد الشعبی کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تازہ حملوں میں شیعہ ملیشیا کے 36 جنگجو ہلاک اور 80 زخی ہوئے ہیں۔ الحشد کے ذریعے کا کہنا ہے کہ ان کے مراکز پر شام کی سرحد پر موجود امریکی فوج نے توپ خانے اور جنگی جہازوں سے بمباری کی۔

ادھر عراق کی الانبارگورنری کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے بھی کہا ہے کہ الحشد ملیشیا کے مراکز پرتباہ کن فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ الحشد ملیشیا کے سید الشھداء بریگیڈ کی طرف سے بمباری میں بڑی تعداد میں اپنے جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ بریگیڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔