.

کُرد قیادت عراق کے مفاد میں حکومت سے مذاکرات کرے:العبادی

عراق کی وحدت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ آئندہ ستمبر میں صوبہ کردستان کی علاحدگی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے نیا دستور بغداد اور صوبہ کردستان کے درمیان جدائی کی لکیر کھینچ دےگا۔ انہوں نے کردستان کی سیاسی قیادت پر حکومت سے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

العربیہ کے مطابق اپنے ایک ہفتہ وار بیان میں وزیراعظم العبادی نے کہا کہ عراق ایک ہی تھا اور یہ ہمیشہ متحد رہے گا۔ میں کردستان کی سیاسی قیادت سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ علاحدگی پسندی کا مطالبہ ترک کرتے ہوئے عراق کے مفاد میں قوم سے مذاکرات کرے۔

الحشد الشعبی شیعہ ملیشیا کے بارے میں انہوں نے کا کہ الحشد اب ایک سرکاری ادارہ بن چکی ہے۔ اس کا دائرہ کار عراق کی حدود کے اندر ہے۔ عراق سے باہر اس کا کوئی کام نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بغداد شام کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ انہوں نے تمام عراقی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ملک سے باہر سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔

العبادی نے کہا کہ موصل پر داعش کے قبضے نے عراق کی سلامتی خطرے میں ڈال دی تھی۔ دہشت گردوں نے موصل کو پناہ گزینوں کا کیمپ بنا دیا۔ اگر داعش کو شکست نہ دی جاتی تو پورا عراق پڑوسی ملکوں کے پناہ گزینوں کا اڈا بن جاتا۔