.

داعش نے مصری پولیس پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے مصر کے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش میں پولیس کی ایک گشتی کار پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔العریش میں بدھ کے روز مسلح افراد کی پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ سے چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کے سرکاری اخبار الاہرام کی رپورٹ کے مطابق العریش میں حکام پولیس کی کار پر فائرنگ کرنے والے مسلح افراد کی تلاش میں ہیں۔ داعش سے وابستہ نیو ز ایجنسی اعماق نے جمعرات کو ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما سیناء میں مختلف جنگجو گروپوں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ واقع صوبے شمالی سیناء میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والوں میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء یا انصار بیت المقدس ہے۔مصری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سیناء میں کارروائیوں کے دوران ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے لیکن ابھی تک وہ شورش پسندی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

گذشتہ کچھ عرصے سے داعش کے جنگجو قاہرہ اور دوسرے علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ مصر کی سب سے بڑی اقلیت قبطی عیسائیوں پر بھی بم حملے کررہے ہیں یا انھیں فائرنگ میں نشانہ بنا رہے ہیں۔