.

شام : مسلح افراد کے حملے میں سفید ہیلمٹ کے سات رضا کار جاں بحق

اردن کی سرحد کے نزدیک خودکش بم حملے میں جیش الاسلام کے 23 کارکنان مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں نامعلوم مسلح افراد نے طبی کارکنان پر مشتمل تنظیم شامی شہری دفاع المعروف سفید ہیلمٹ کے سات رضاکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے اور ان کی دو گاڑیاں اور دوسرے آلات چرا کر لے گئے ہیں۔ادھر جنگ زدہ ملک کے جنوب میں ایک خودکش بم حملے میں جنگجو 23 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

شامی شہری دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ادلب میں واقع قصبے سرمین میں رضاکاروں پر یہ حملہ ہفتے کی صبح کیا گیا ہے۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ ان سات رضاکاروں کو سر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور ان کی موت کا اس وقت پتا چلا تھا جب سفید ہیلمٹ کے دوسرے رضا کار کیمپ کی منتقلی کے لیے آئے تھے اور انھیں وہاں اپنے ساتھیوں کی لاشیں پڑی ملی تھیں۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ اب تک واقعے کو ایک جرم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔یہ حملہ ادلب میں القاعدہ سے وابستہ النصرہ محاذ کے تشخص کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش بھی ہوسکتا ہے تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ ادلب محفوظ نہیں ہے‘‘۔

ادلب سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے ایک کارکن نے امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حملہ آوروں نے سفید ہیلمٹ کے رضا کاروں پر فائرنگ کے لیے سائلنسروں والے پستول استعمال کیے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نزدیک رہنے والے لوگوں کو فائرنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی اور انھیں اس واقعے کا بہت بعد میں پتا چلا تھا۔

اس کارکن نے مزید بتایا ہے کہ سرمین میں داعش کے خفیہ سیلوں کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔اس لیے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ حملہ داعش کے جنگجوؤں ہی نے کیا ہے اور ان کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ادلب محفوظ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ چھے سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں وائٹ ہیلمٹ کے رضاکاروں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر مسلح جھڑپوں ، بم دھماکوں اور فضائی حملوں میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد مہیا کی ہے اور انھیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں سے نکال کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا ہے۔وائٹ ہیلمٹ کا نام گذشتہ سال نوبل امن انعام کے لیے بھی زیر غور رہا تھا۔

خودکش بم دھماکا

قبل ازیں اردن کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے قصبے نسیب میں ایک باغی گروپ جیش الاسلام کے تربیتی کیمپ میں خودکش بم دھماکے میں تیئیس جنگجو ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

جنوبی صوبے درعا سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کےایک کارکن احمد المسلمہ نے بتایا ہے کہ جمعہ کی شب جیش الاسلام کے قریباً اسی کارکنان ایک خیمے میں کھانا کھا رہے تھے۔اس دوران میں حملہ آور بمبار نے خیمے میں گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ان کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تیس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے ہیں اور چھے ابھی تک لاپتا ہیں۔

کسی گروپ نے فوری طور پر اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں داعش کے جنگجو اپنے مخالف گروپوں پر اس طرح کے حملے کرتے رہے ہیں۔