.

سعودی عرب : سماجی ضرر رساں ہر سرگرمی پر قانونی گرفت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود بن عبداللہ المعجب نے باور کرایا ہے کہ "مملکت میں کسی بھی ذریعے سے معاشرے کے لیے ضرر رساں مواد پھیلانے والوں کے خلاف استغاثہ کی جانب سے شرعی اور قانونی تقاضوں کے مطابق براہ راست کارروائی عمل میں لائی جائے گی.. ان ذرائع اور وسائل میں میڈیا ، سوشل میڈیا ، لیکچر ، تقریر اور تحریری لٹریچر شامل ہو گا"۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس اقدام کی بنیاد یہ ارشاد باری تعالی ہے :

ترجمہ : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں۔ خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے (سورت ابراہیم ۔ آیت 24 تا 27)

اٹارنی جنرل کے مطابق "چوں کہ الفاظ اپنے طور انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لہذا استغاثہ کے اختیارات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اس چیز پر کڑی نظر رکھی جائے کہ کب یہ الفاظ اپنی قانونی آزادی کی حد سے تجاوز کر چکے ہیں اور اب سماج کے معتدل مزاج کو انتہا پسندی اور تشدد کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ ان میں نفرت آمیز اور فرقہ وارانہ نعرے ، نظریاتی اور مسلکی تحریریں اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ لہذا فوجداری نظام کی شقوں (13 ـ 15 ـ 17) کے تحت ایسی صورت میں استغاثہ کو قدم اٹھانے لازم ہے"۔

فیصلے کے بعد مملکت میں استغاثہ کی جانب سے فوری طور پر سوشل میڈیا پر سرگرم صارفین کے ایک گروپ کو طلب کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جن کے خلاف نظامِ عامّہ کو نقصان پہنچانے والے افعال کے مرتکب ہونے سے متعلق فوجداری نوعیت کے الزامات ہیں۔ استغاثہ نے باور کرایا کہ جن افراد کو طلب کیا گیا ہے ان کے خلاف شرعی تقاضوں کی بنیاد پر نظام کے تحت اقدامات کیے جائیں گے۔