.

احمدی نژاد کی خامنہ ای پر کڑی تنقید ، سابق شاہ ایران سے تشبیہ دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں سابق شاہ ایران سے تشبیہہ دی ہے جن کا 1979 میں انقلاب کے ذریعے تختہ الٹ دیا گیا تھا۔

نژاد نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر جاری وڈیو کلپ میں کہا ہے کہ "ایسا کوئی بھی نہیں ہے جو عوام سے زیادہ بلند مقام رکھتا ہو۔ سرکاری منصب اور عہدے کسی کے باپ کی میراث نہیں ہیں۔ ہم اس لیے انقلاب نہیں لے کر آئے تھے کہ ایک خاندان جائے اور دوسرا اس کی جگہ پکڑ کر بیٹھ جائے"۔ اس بات میں نجاد کا اشارہ واضح طور ایران میں حکمرانی کی کنجیوں پر علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے غلبے کی جانب تھا۔

احمدی نژاد اور خامنہ ای کے بیچ تعلقات اُس وقت بگڑ گئے تھے جب گزشتہ انتخابات سے قبل سپریم رہ نما نے نجاد کو ہدایت کی تھی کہ وہ آئندہ انتخابات میں خود کو بطور امیدوار پیش نہ کریں۔ اس کے نتیجے میں خامنہ ای کے غلبے کے سامنے جھکی ہوئی شوری نگہبان کونسل نے احمدی نژاد اور ان کے معاون حمید بقائی کے کاغذات نامزدگی کو اس بہانے مسترد کر دیا تھا کہ یہ دونوں افراد صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

ایرانی صدر نے اپنے وڈیو کلپ میں خبردار کیا ہے کہ آئندہ عرصے میں ملک کے اندر اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔
مرشد اعلی کے رسوخ کے سامنے کمزور ایرانی عدلیہ نے بھی احمدی نژاد پر دباؤ بڑھانے کے واسطے گزشتہ ماہ سابق صدر کے معاون حمید بقائی کو گرفتار کر لیا تھا اور پھر چند روز بعد رہا کر دیا۔

اس کے علاوہ احمدی نژاد کے سابق میڈیا مشیر عبدالرضا داؤری کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ بعض نامعلوم افراد نے فیس بک پر داؤری کے صفحے پر ان کے بعض مضامین کے ذیل میں تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی نظام کی اہانت پر مبنی نامناسب عبارتیں تحریر کر دی تھیں۔ اس پر داؤری کو 3 برس کی جیل ہو گئی۔

تہران میں اٹارنی جنرل عباس جعفری دولت آبادی نے مرشد اعلی علی خامنہ ای کو لکھے گئے ایک خط کی وجہ سے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو تعاقب کی دھمکی دی تھی۔ نژاد نے خط میں شکایت کی تھی کہ بدعنوانی کے الزام میں ان کے سابق معاون حمید بقائی کی گرفتار ایک بڑا ظلم ہے۔

احمدی نژاد نے ایرانی نظام اور اس کی کارکردگی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے جیل حکام پر الزام بھی عائد کیا تھا کہ انہوں نے نژاد کے معاون کو ہارون الرشید یا گوانتانامو جیسی خوف ناک جیلوں میں قید کیا ہوا ہے۔

بدعنوانی کے الزامات

ایرانی عدلیہ نے بھی 2005 سے 2013 تک مدت صدارت کے دوران بدعنوانی اور ریاستی مال کی لوُٹ مار کے الزام میں سابق صدر احمدی نژاد کے احتساب کی دھمکی دے رکھی ہے۔ نژاد کے سابق نائب محمد رضا رحیمی 70 ارب ڈالر کی سرکاری رقوم کے غبن میں ملوث ہونے کے سبب 5 سال اور 91 روز قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

احمدی نژاد نے خود پر اربوں ڈالر کے ناجائز استعمال کے حوالے سے عائد الزامات کے جواب میں ایک بیان دیا تھا کہ وہ اپنے خلاف تمام تر سازشوں کو بے نقاب کریں گے جو صاحب اقتدار اور صاحب ثروت ٹولے کر رہے ہیں۔

ادھر ایرانی آڈیٹر جنرل فیاض شجاعی پیر کے روز کہہ چکے ہیں کہ صدر احمدی نژاد کو اس الزام کا سامنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدت صدارت کے دوران اربوں ڈالر کی سرکاری رقوم کا غلط استعمال کیا۔

اس کے مقابل احمدی نژاد نے کہا کہ ان کے معاون حمید بقائی کی گرفتاری کے ساتھ ہی "بزدلی کا منظرنامہ" شروع ہو چکا ہے اور اس کے بعد ایرانی آڈیٹر جنرل نے میرے خلاف بھی "جھوٹے" الزامات کا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔

سابق ایرانی صدر نے مزید کہا کہ "میں نے عوام کے خلاف معاندانہ اور غیر اخلاقی برتاؤ پر طویل خاموشی اختیار کی مگر آج میں محسوس کر رہا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ ان قبیح اور شرم ناک کارستانیوں کو منظر عام پر لے کر آؤں"۔