.

بیداری تحریک "صحوہ" کا تیسرا ایڈیشن کس طرح ناکام ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انیس نوّے کی دہائی میں کویت پر عراقی حملے کے دوران سعودی عرب میں صحوہ تحریک )بیداری تحریک( سامنے آئی۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی فکری اور نظریاتی ذہن سازی کار فرما تھی تاہم یہ تحریک بھی اسی طرح ناکامی سے دوچار ہوئی جس طرح الاخوان المسلمین اور سروریوں کی قیادت میں دیگر سیاسی اسلامی گروپ کا حشر ہوا۔ اس سلسلے میں خلیج کے علاقے میں "بہارِ عرب" تحریک کی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی اور چار عرب ملکوں کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے اعلان کے ساتھ ہی اس بیداری تحریک کو سپورٹ کرنے والی شخصیات کا بھی انکشاف شروع ہو گیا۔

"اِخوان"

مسلم علماء کے عالمی اتحاد کے سربراہ یوسف قرضاوی سے دسمبر 2010 میں ایک انٹرویو کے دوران صحوی گروپ کی ایک نمایاں اور معروف مذہبی شخصیت کے متعلق سوال کیا گیا تو قرضاوی نے ہنس کر جواب دیا کہ "... وہ تو سعودی عرب میں میری نمائندگی کرتے ہیں"۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے اس جواب کو آف دی ریکارڈ رکھنے کی درخواست کی کیوں کہ سعودی عرب میں جماعتوں اور گروپ بندیوں پر پابندی ہے۔

اسی طرح کویت میں بھی ایک اخوانی شخصیت نے جو تاریخ سے متعلق اپنے لیکچروں کی وجہ سے مشہور ہیں ایک مرتبہ اخباری انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "میں نہ صرف رکن ہوں بلکہ الاخوان المسلمین تنظیم کا ایک سینئر رہ نما ہوں"۔ اس شخصیت نے بھی انٹرویو کے بعد دفتر فون کر کے گزارش کی کہ اس جواب کو نہ شائع کیا جائے کیوں کہ سعودی عرب کا الاخوان کے حوالے سے موقف سب ہی جانتے ہیں۔

مصر میں غلبہ پانے اور اقتدار تک پہنچنے کا الاخوانی منصوبہ ناکام بنا دیے جانے کے بعد انکشاف ہوا کہ تنظیم مصر میں منظر عام پر آئے بغیر اجلاسوں ، ملاقاتوں اور لیکچروں میں مصروف ہے اور مناسب موقع کے لیے افراد کو تیار کر رہی ہے۔

بہار عرب سے قبل الاخوان المسلمین ایک سے زیادہ مرتبہ سعودی عرب کے آمنے سامنے آئی۔ سرکاری طور پر پہلی مڈ بھیڑ اُس موقع پر دیکھنے میں آئی جب الاخوان نے خلیج کے بحران اور کویت پر عراقی صدر صدام حسین کے حملے کے حوالے سے اپنے موقف کا اعلان کیا۔ بعض حلقوں کے نزدیک سعودی عرب کو اس سے کافی پہلے عدم اعتماد کا اظہار کر دینا چاہیے تھا جب 1979 میں ایران میں خمینی کے اقتدار سنبھالنے پر الاخوان نے اس کے نظام کو مبارک باد پیش کی۔

بعد ازاں الاخوان کی جانب سے 11 ستمبر کے حوالے سے القاعدہ کے سربراہ کی سپورٹ کا موقف سامنے آیا۔ سال 2002 میں اُس وقت کے سعودی وزیر داخلہ شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کا الاخوان پر کڑی تنقید کے حوالے سے ایک بیان کویتی جریدے السیاسہ میں شائع ہوا۔ اس میں انہوں نے اسلامی دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات کا بنیادی ذمے دار الاخوان تنظیم کو ہی ٹھہرایا۔

تیسری صحوہ تحریک کا سقوط

مارچ 2014 میں سابق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے الاخوان کو دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ ایک دہشت گرد جماعت قرار دیتے ہوئے اس کو کالعدم قرار دیا۔ اس کے علاوہ 3 جولائی 2013 کے انقلاب میں صدر محمد مرسی کی حکومت ختم کروانے میں بھی مصری عوام کی مدد کی۔

مصر میں 25 جنوری کے انقلاب )حسنی مبارک کے رخصتی) کو تیسری اسلامی بیداری کا نقطہِ آغاز کہا گیا جس کی منصوبہ بندی مشرق اور مغرب میں اسلام پسندوں نے کافی عرصے سے کر رکھی تھی۔

واضح رہے مصر میں الاخوان المسلمین کے مطابق پہلی صحوہ یعنی پہل اسلامی بیداری تحریک کا آغاز 1924 میں خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد ہوا جب کہ دوسری صحوہ تحریک مصری صدر جمال عبدالناصر کی وفات اور انور سادات کے اقتدار میں آنے پر شروع ہوئی تھی۔

سعودی عرب میں خفیہ تنظیمیں

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے فیصلے کی جانب واپس آتے ہیں۔ الاخوان کو دیگر کئی تنظیموں کے ساتھ شامل کیا گیا جن کا سعودی عرب میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونا ثابت ہوچکا تھا۔ ان میں " جزیرہ عرب میں القاعدہ تنظیم ، یمن میں القاعدہ تنظِم ، عراق میں القاعدہ تنظیم ، داعش ، النصرہ محاذ ، حجاز کی حزب اللہ ، الاخوان المسلمین اور حوثی جماعت" شامل ہے۔

مملکت کے فیصلے میں یہ امر بھی شامل کیا گیا کہ ان تنظیموں اور گروپوں کی تائید کرنے والے، تعلق کا اظہار کرنے والے، ہمدردی رکھنے والے، ان کے نظریات کی ترویج کرنے والے اور یا پھر ان کے زیر سایہ اجلاس اور ملاقاتیں منعقد کرنے والے خواہ مملکت میں یا بیرون مملکت یہ تمام افراد تحقیقات کے زمرے میں آئیں گے۔ ان تنظیموں اور گروپوں کے لیے مالی یا اخلاقی سپورٹ اور ان سے ہر قسم کا رابطہ جرم شمار ہو گا۔ اس کے علاوہ کسی دوسری ریاست کے لیے وفاداری کا اظہار ، اس کے ساتھ مربوط ہونا یا پھر مملکت کی وحدت اور امن و استحکام کو نقصان پہچانے کے لیے کسی بھی غیر ملک سے رابطے میں رہنا بھی جرم شمار کیا جائے گا۔

زرد پرچم

اس خصوصی شاہی فرمان کے جاری ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد سوشل میڈیا پر بعض سعودی کارکنان کے صفحات اور اکاؤںٹس سے "چار انگلیوں والے" لوگو کی تصویر غائب ہو گئی جو الاخوان کے کہنے پر مصر میں رابعہ کے علاقے میں دھرنا دینے والوں کے لیے سپورٹ کا اظہار تھا۔ رابعہ کا لوگو غائب ہونے پر ان اندرون خانہ سرگرم تحریکوں کے لیے سپورٹ نے دوسری صورتیں اختیار کرلیں۔

سعودی عرب میں الاخوان پر پابندی عائد کیے جانے سے قبل محمد مرسی کے دورِ صدارت کے دوران ہی تنظیم کی بہت سے اہم شخصیات مصر کے منظر نامے پر آ گئیں۔ ان لوگوں کی وسیع پیمانے پر ملاقاتیں نہ صرف مصر بلکہ سعودی عرب میں بھی ہوئیں جہاں ان کا خیرمقدم کیا گیا۔ اس دوران صحوہ تحریک کے بعض مبلغین اور مقررین نے الازہر یونی ورسٹی میں اپنے خطابوں کے دوران "اسلامی خلافت" کی جلد واپسی کی نوید بھی سنا ڈالی۔

اس موقف کی تصدیق الجزیرہ چینل کی ویب سائٹ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سعودی دانش وروں نے مصری صدر مرسی کی معزولی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور اپنا آئینی حق حاصل کرنے کے لیے مصر میں دھرنا دینے والوں کے ساتھ ہمدردی کا بھی اظہار کیا تھا۔

سعودی عرب کے موجودہ فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور میں مملکت کا حالیہ موقف اس سلسلے میں زیادہ سخت اور پُرعزم نظر آ رہا ہے جہاں سعودی عرب قطر اور اس کے پیچھے کھڑی الاخوان تنظیم کے معاملے کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس سے کسی طور بھی دست بردار نہ ہونے کا اعلان کیا۔ قطر کی حالیہ سرزنش کے نتیجے میں مملکت میں مذکورہ شدت پسند گروپوں اور تیسری صحوہ تحریک کے لیے ہمدردی کی آوازیں بھی خاموش ہو گئیں۔ اس طرح مملکت میں خفیہ تنظیموں سے نمٹنے کا یہ طریقہ کار مؤثر ثابت ہوا۔

چار سال قبل شاہ عبداللہ مرحوم کا فیصلہ مملکت کی سرزمین پر موجود خفیہ دشمن تنظیموں کا نقشہ تیار کرنے کے لیے واضح اقدام تھا۔ اس کے ذریعے ان تنظیموں کا معاشرے میں سرائیت کرنے کا طریقہ کار بھی سامنے آیا۔

اخوانی طرز فکر کے تحت خفیہ سنی جماعتوں کو جنم دینے کا ارادہ کیا گیا۔ ان میں "بَنّائی اخوان، سروری، قطبی سوچ کے حامل مثلا داعش ، القاعدہ اور النصرہ محاذ" شامل ہیں۔ اسی طرح شیعہ خمینی ورژن کی مثال " حجاز کی حزب اللہ اور یمن میں حوثی جماعت" ہے۔

اس سلسلے میں مشترکہ نقطہ عوام کو استعمال کرنا ہے جس کا واضح طور پر اظہار القاعدہ تنظیم اور النصرہ محاذ کے قائدین مثلا بن لادن ، الظواہری اور الجولانی کے بیانات اور تقریروں میں کیا جاتا رہا ہے جو اس تحریک اور جد و جہد کو عوامی انقلابوں کا نام دیتے ہیں۔ 2014 سے 2014 کے دوران جمہوریت ، آزادی ، مساوات ، اصلاح اور تبدیلی کے نعرے بلند کیے گئے۔ اس سلسلے میں قطبی اور بَنّائی اخوان کی سوچ کے ڈانڈے خمینی کے پاسداران انقلاب کے مقاصد سے مل گئیں جو اپنے اصولوں کی بنیاد پر پوری دنیا میں اسلامی انقلاب لانے کا برملا اظہار کرتے ہیں

بیداری کے منصوبے کی تیاری

کسی بھی ریاست میں سماجی تحرک کے لیے بنیادی اصولوں کی تفصیل 2006 میں شائع ہونے والی اطالوی کتاب میں سامنے آئیں۔ اس کے مطابق اگرچہ بیداری کی تحریک اپنے مقصد کو پالے تب بھی اس امر کی طالب ہوتی ہے کہ اس میں انسانی امور اور ٹکنالوجی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ذہین افراد شامل ہوں تا کہ بھرتی اور ذہن داری کو منظم طور انجام دیا جا سکے اور نئے آنے والوں کو تحریک کے مقاصد سے بخوبی واقف کرایا جا سکے۔

اطالوی مصنفین کے مطابق ان سرگرمیوں کے لیے سیاسی علوم کے ماہر ، دانش ور اور جنگجوؤں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے اگرچہ سماجی طور پر یہ تمام لوگ علاحدہ میدانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کتاب کے مطابق ایک ہی وقت میں مختلف شعبوں کو متحرک کرنے سے موجود نظام جواب دینے میں کمزور پڑ جاتا ہے اور زیادہ مزاحمت نہیں کر پاتا۔

بہرکیف یہ تمام سرگرمیاں "سماجی تحرک کے نظریے" کے تحت سامنے آتی ہیں۔ اسی نہج پر اسلامی سیاسی بنیاد پرست سنی اور شیعہ جماعتیں ، گروپ اور تنظیمیں بائیں بازو کی سوشلسٹ اور شرپسند تنظیموں کے نقش قدم کو اپناتی ہیں۔ یہ ہی سب کچھ "بہارِ عرب" کے نام پر بھی ہوا جس کے لیے منصوبہ بنایا گیا تھا کہ اسے سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور کویت تک پھیلایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے۔