.

کم سن بچوں کو فوجی تربیت، الحشد الشعبی حوثیوں کی راہ پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں کم سن بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے میں بدنام ایران نواز حوثی باغیوں اور داعش کے بعد اب عراق کی الحشد الشعبی ملیشیا بھی بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی راہ پر چل پڑی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عراق کی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین پامالی کرتے ہوئے اب کم عمر بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانا شروع کردیا ہے۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق عراقی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ الحشد الشعبی کم عمر بچوں کو بھی اپنی صفوں میں بھرتی کررہی ہے۔ بہ ظاہر بچوں کو اپنی ذات اور اپنے علاقوں کے دفاع کے لیے عسکری تربیت دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، مگر بچوں کو جنگی تربیت دینے کا اصل مقصد انہیں لڑائیوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

خیال رہے کہ الحشد الشعبی ملیشیا متنازع ہونے کےباوجود اب عراقی حکومت کا ایک سرکاری ادارہ بن چکی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے الحشد الشعبی پر پہلے ہی فرقہ واریت کو فروغ دینے اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ الحشد کے دیگر جرائم میں 18 سال کی عمر کے بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرنا ایک نیا اضافہ ہے۔

حال ہی میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا تھا کہ الحشد الشعبی کو تحلیل کرنے کے بجائے اسے باقاعدہ سیکیورٹی اداروں کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الحشد ملک میں مذہبی قیادت کے ماتحت کام کرتی رہے گی۔ تاہم الحشد ملیشیا کے سینیرکمانڈروں کی طرف سے بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے کے اعلان کے بعد عراقی حکومت کو عالمی اداروں میں سخت باز پرس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو عسکری تربیت دینے کو بین الاقوامی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ الحشد کے اقدامات پر عراقی حکومت کو جواب دینا پڑ سکتا ہے۔

عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق الحشد الشعبی نے حالیہ عرصے میں کرکوک گورنری میں 180 بچوں کو اسلحہ چلانا سکھایا۔ انہیں چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کی تربیت کے ساتھ ٹیکٹیکل نوعیت کی تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔