.

بن لادن اور پھر البغدادی سے بیعت ہونے والا "خالد عبد النبی" کون ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ عرصہ پہلے بنیاد پرست یمنی جہادی خالد عبدالنبی کی جانب سے خود کو یمنی حکام کے حوالے کر دینے پر اس پیش رفت کو یمن کی آئینی حکومت کے سکیورٹی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل ہوئی۔ اس لیے کہ خالد کو القاعدہ تنظیم کے "بلیک بکس" مترادف قرار دیا گیا تھا۔ خالد عبدالنبی کون ہے اور اس کا اسامہ بن لادن اور ابو بکر البغدادی کے ساتھ تعلق کا راز کیا ہے؟

عبدالنبی کون ہے ؟

یمن میں "جیشِ عدن اَبین الاسلامی" کا سربراہ خالد محمد عبدالنبی الیزیدی یمن کے صوبے لحج کے علاقے یافع میں پیدا ہوا اور اس کا تعلق الیزیدی قبیلے سے ہے۔ 1998 میں اس نے اَبین میں جیشِ اسلامی قائم کی اور پھر اس تنظیم کا سربراہ بن گیا جو "جیشِ عدن اَبین الاسلامی" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اگرچہ خالد نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی بیعت کی ہوئی تھی اور اس کا یمن اور بیرون میں القاعدہ کے کئی رہ نماؤں سے تعلق تھا تاہم اس نے بنا کسی مخصوص تنظیم میں شمولیت اختیار کیے بغیر ہی چلتے رہنے کو ترجیح دی۔ خالد نے جس نے اپنا نام بدل کر عبد رب النبی کر لیا تھا ، جہادی بنیاد پرست جماعتوں کو لوجسٹک اور مادی سپورٹ پیش کرنے پر اکتفا کیا۔ وہ 1994 میں علاحدگی پسندوں کے خلاف جنگ میں سرکاری فوج کے شانہ بشانہ یمنی مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو کر لڑا۔ یمن میں بہت سی پرتشدد کارروائیوں کے ساتھ خالد کا نام جوڑا گیا۔ ان میں دھماکوں اور افسران کے قتل کے علاوہ 1998 میں 16 غیر ملکی سیاحوں کا اغوا شامل ہے۔ 12 اکتوبر 2000 کو یمنی بندرگاہ عدن کے قریب امریکی بحری حملہ آور جہاز یو ایس ایس کول کو نشانہ بنانے والے خود کش دھماکے کے ساتھ بھی اس کے ارکان کا تعلق جوڑا گیا۔ حملے میں 17 امریکی اہل کار مارے گئے تھے۔ اگست 2008 میں یمن کے صوبے ابین میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی خالد کے ارکان کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں اس کے پانچ جنگجو ہلاک ہو گئے جب کہ القاعدہ تنظیم کے 28 ہمدردوں کو گرفتار کر لیا گیا جن میں خالد بھی تھا۔ اس موقع پر خالد نے علی عبداللہ صالح کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ دونوں کے درمیان معاہدہ طے پایا کہ خالد کے تمام ارکان کی رہائی کے بدلے وہ شمال میں شیعہ باغیوں اور جنوب میں علاحدگی پسندوں کے خلاف صالح کی لڑائی میں اس کا ساتھ دے گا۔ اس طرح 2009 میں خالد سمیت 175 کے قریب مسلح اسلام پسندوں کو رہا کر دیا گیا۔

القاعدہ سے داعش تک کا سفر

خالد عبدالنبی عُرف ابو بصیر نے 1983 سے سعودی عرب میں قیام کر لیا۔ 1991 میں اس نے جدہ شہر میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ خالد نے بن لادن کی بیعت کر لی۔ بعد ازاں وہ افغانستان میں جنجگوؤں کے ساتھ جا ملا۔

1994 میں خالد جنگجوؤں کے ایک گروپ کے ساتھ واپس یمن آ گیا ، یہ پورا گروپ بھی بن لادن سے بیعت کر چکا تھا۔ اسامہ سے بیعت ہونے کے باوجود اس نے مختلف تحفظات کے سبب یمن میں القاعدہ تنظیم کی شاخ "انصار الشریعہ" تنظیم میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ خالد اور انصار الشریعہ تنظیم کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے گئے یہاں تک کہ نوبت مکمل بائیکاٹ تک جا پہنچی کیوں کہ خالد نے داعش تنظیم کے خلفیہ ابو بکر البغدادی سے بیعت کر لی تھی۔

ابو بکر البغدادی سے بیعت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خالد کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت اسامہ بن لادن زندہ ہوتے تو وہ بھی البغدادی کے ہاتھ پر بیعت ہو جاتے۔ القاعدہ کے حالیہ سربراہ ایمن الظواہری کے ساتھ اپنے اختلافات کے حوالے سے خالد کا کہنا ہے کہ الظواہری کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ایک انسان ہیں کوئی فرشتہ یا نبی نہیں.. اور ہر انسان کی طرح ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

القاعدہ کے لیے بھرپور سپورٹ

خالد عبدالنبی کی جانب سے ظاہر کی گئی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالد اور اس کے گروپ کا القاعدہ اور اس کے رہ نماؤں کے ساتھ کتنا گہرا تعلق تھا اور وہ کس وسیع پیمانے پر القاعدہ کی مفرور شخصیات کو سپورٹ پیش کرتے تھے۔ ان ہی شخصیات میں شامل ابو بصیر الوحیشی کو اسامہ بن لادن کا خصوصی کاتب سمجھا جاتا ہے۔ الوحیشی 2002 میں افغنستان سے نکل کر ایران چلا گیا جہاں وہ گرفتار ہو گیا۔ بعد ازاں یمن کوچ کر گیا اور 2006 میں جیل سے فرار ہو گیا۔ 2007 میں وہ یمن میں تنظیم کا سرغنہ چن لیا گیا یہاں تک کہ 2015 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ مذکورہ شخصیات میں جلال بلعیدی عُرف ابو حمزہ الزنجباری بھی تھا۔ وہ القاعدہ تنظیم کا ایک نمایاں کمانڈر اور جزیرہ عرب میں القاعدہ کی عسکری کارروائیوں کا ذمے دار بھی تھا۔ بلعیدی بھی 2016 میں ڈرون طیارے کے ایک حملے میں ہلاک ہو گیا۔