.

قطر حج کو سیاسی رنگ دینے اور سعودیہ کے ساتھ محاذ آرائی میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ قطر نے سعودی عرب کے خلاف کئی محاذ کھول لیے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ دوحہ حج کو سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور قطری میڈیا سعودی عرب کے علاقے العوامیہ کے واقعے کو بے ہودہ طریقے سے نشر کر رہا ہے۔

پیر کے روز اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں قرقاش نے کہا کہ "قطر کا موقف خود پسندی پر مبنی ہے۔ وہ امارات پر دوحہ کے خلاف مہم چلانے کا الزام عائد کرتا ہے جب کہ خود سعودی عرب کے خلاف محاذ پر محاذ کھولتا جا رہا ہے۔ قطر کے نزدیک بحرین اور مصر کا امن و امان خراب کرنا دوحہ کا طبعی حق ہے... یہ تو غیر منطقی بات کی منطق پیش کی جا رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ " اگر امارات اشتعال انگیزی کر رہا ہے تو پھر قطر کی طرف سے حج کو سیاسی رنگ دینے کا کیا مطلب ؟ العوامیہ کے واقعے کی بغض و عناد پر مبنی کوریج کو کیا کہا جائے گا ؟ اور یمن میں شرم ناک موقف ؟ یہ سب بوکھلاہٹ اور خبط الحواسی ہے جس کی کوئی منطق نہیں"۔

قرقاش نے اپنی ٹوئیٹس کے اختتام پر کہا کہ " اس تاریک سرنگ سے نکلنے کے لیے دوحہ کے پاس حقیقت کی طرف لوٹنے کا ایک موقع ہے اور اس کی بنیاد 13 مطالبات ہیں جو مذاکرات کا فریم ورک ہیں۔ گویا قطر کو ماننا پڑے گا کہ حل ریاض کے پاس ہے"۔