.

نژاد حکومت پر 30 پلیٹ فارم تیل غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر تیل بیژن زنگنہ نے انکشاف کیا ہے کہ محمود احمدی نژاد کی حکومت کے ذمے داران نے غیر قانونی طریقے سے ایک رات میں ایک شخص کو 30 پلیٹ فارم کا تیل فروخت کر ڈالا۔ ایرانی پارلیمنٹ کی خبر رساں ایجنسی "خانہ ملّت" کو دیے گئے انٹرویو میں زنگنہ نے بتایا کہ 30 پلیٹ فارموں میں سے 20 پلیٹ فارم خشکی کے تھے اور 10 سمندر کے اندر تھے اور اس سودے میں ٹینڈروں کے حوالے سے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔

زنگنہ کا کہنا ہے کہ یہ سودا احمدی نژاد کے دفتر کی جانب سے منظور کیے گئے تین سودوں میں شامل تھا۔ ان میں بیرون ملک سے ایک ارب ڈالر کی تیل کی پائپ لائنیں خریدنے اور دیگر لا پتہ پلیٹ فارموں سے متعلق امور کا معاہدہ شامل تھا۔ اس کے مقابل کا 30 پلیٹ فارموں کا تیل فروخت کرنے کا معاہدہ طے کیا گیا جو کہ سب کا سب ایک شخص کے نام پر تھا۔ تاہم ایرانی وزیر تیل نے اس شخص کا نام نہیں بتایا۔

یاد رہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور (2005-2013) میں سرکاری بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ اس دوران تیل کے 3 عظیم الجثہ ٹینکروں کو چوری کر کے ان کا تیل سرکاری ذمے داران نے بلیک مارکیٹ میں فروخت کر ڈالا تھا۔ اس کے علاوہ ملکی خزانے سے 70 ارب ڈالر مالیت کے غبن کے اسکینڈل میں سابق صدر کے ایک نائب محمد رضا رحیمی کو پانچ برس کی قید ہو گئی۔

تیل کے سیکٹر میں ہونے والی بدعنوانی میں ملوث افراد میں خاتمی کے دور حکومت میں سابق ایرانی وزیر ثقافت عطاء اللہ مہاجرانی کا بیٹا محمد محسن مہاجرانی بھی شامل ہے۔ ایرانی میڈیا نے نومبر 2015 میں انکشاف کیا تھا کہ عدلیہ کی جانب سے محسن مہاجرانی کو تیل کے ایک پلیٹ فارم کی چوری کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے.. اس پلیٹ فارم کی قیمت 8.7 کروڑ ڈالر تھی۔

احمدی نژاد اور ان کی قریبی شخصیات کو بدعنوانی اور سرکاری مال کی لوٹ مار سے متعلق سنگین نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے۔ رواں برس مئی میں صدارتی انتخابات کے موقع پر ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں احمدی نژاد پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

اپنی تازہ ترین نکتہ چینی میں احمدی نژاد نے گزشتہ روز ایک بیان میں خامنہ ای پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے خود کو عوام سے بلند درجہ دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ نژاد نے خامنہ ای کو سابق شاہ پہلوی سے ملا ڈالا جن کی حکومت 1979 کے انقلاب میں ختم ہو گئی تھی۔